یروشلم پوسٹ نے اپنے حالیہ اداریے میں اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ غزہ میں جنگ ختم بھی ہو جائے اور یرغمالی رہا بھی کر دیے جائیں، تب بھی اسرائیلی انتظامیہ کو دنیا بھر کے منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ
اداریے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبہ خطے میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔مجموعی طور پر عرب اور اسرائیلی حکام اسے ایک تاریخی اقدام قرار دے رہے ہیں۔تاہم اس پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
منصوبے کے اہم نکات
معاہدے کی صورت میں اسرائیلی یرغمالی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔اسرائیل مرحلہ وار اپنی فوج غزہ انکلیو سے ہٹائے گا۔حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا۔ایک عالمی انتظام قائم ہوگا جس کے تحت غزہ کی تعمیر نو کا عمل شروع ہوگا۔
خدشات اور سوالات
اداریے میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ یہ اقدامات خطے کے عوام کے لیے سکون کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن کئی سوالات اپنی جگہ موجود رہیں گے، خصوصاً:عبوری اتھارٹی کے اختیارات کیا ہوں گے؟اس اتھارٹی کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟اور سب سے اہم، یہ تبدیلیاں خطے میں بسنے والے عام لوگوں کی زندگیاں کس طرح متاثر کریں گی؟