نیویارک شہر کے پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ایک نئے سیاسی اور انتظامی دور کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب حقیقی تبدیلی کی طاقت براہِ راست عوام کے ہاتھ میں ہو۔
اندرونِ مین ہٹن ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے میئر ظہران ممدانی نے واضح کیا کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اور شہر میں روزمرہ زندگی کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کم کرنے کے لیے عملی اور جرات مندانہ اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج سے ان کی انتظامیہ پوری صلاحیت، دیانت اور جرات کے ساتھ حکومت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے ہر کوشش میں کامیابی حاصل نہ ہو، لیکن یہ الزام کبھی نہیں لگے گا کہ انہوں نے عوام کے لیے لڑنے کی ہمت نہیں کی۔میئر ظہران ممدانی نے اپنے نظریاتی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک جمہوری سوشلسٹ کے طور پر منتخب ہوئے ہیں اور اسی سوچ کے تحت حکمرانی کریں گے، چاہے انہیں اس پر تنقید یا سیاسی مخالفت کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اصل کام اب شروع ہوا ہے۔ حلف برداری کے چند ہی گھنٹے بعد میئر ظہران ممدانی نے 26 ستمبر 2024 کے بعد جاری کیے گئے تمام ایگزیکٹو آرڈرز منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا، جو سابق میئر کے دور میں وفاقی بدعنوانی کے الزامات کے تناظر میں نافذ کیے گئے تھے۔منسوخ کیے گئے احکامات میں وہ ہدایات بھی شامل تھیں جن کے تحت میئر کے عملے کو اسرائیل کے بائیکاٹ یا سرمایہ کاری سے اجتناب جیسے معاملات پر اظہارِ رائے سے روکا گیا تھا، جبکہ مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کو بھی محدود کر دیا گیا تھا۔نئے میئر کے دفتر کے مطابق ان احکامات کی منسوخی کا مقصد نئی انتظامیہ کے لیے ایک صاف، شفاف اور اصولی آغاز کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ایسی پالیسیوں کو ازسرِ نو نافذ کیا جا سکے جو عوامی خدمت، بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔