نیویارک سٹی کے میئر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں ظہران مامدانی نے سبقت حاصل کر لی ہے، جو نہ صرف ایک اہم سیاسی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ امریکا میں مسلم نمائندگی کے لیے ایک بڑا قدم بھی مانا جا رہا ہے۔
انتخابی نتائج:
ظہران مامدانی: 43.5٪ ووٹ
اینڈریو کومو: 36.4٪ ووٹ
دیگر 9 امیدوار: نمایاں فرق سے پیچھے
نیویارک میں نافذ رینکڈ-چوائس ووٹنگ سسٹم کے تحت ووٹنگ ہوئی ہے، جس کے حتمی نتائج اگلے ہفتے متوقع ہیں، تاہم ابتدائی نتائج میں مامدانی کی برتری اتنی واضح ہے کہ ان کی جیت کو تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔
اینڈریو کومو کی شکست تسلیم
سابق گورنر اینڈریو کومو، جنہوں نے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد 2021 میں استعفیٰ دیا تھا، سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہے تھے۔ اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
"آج کی رات مامدانی کی ہے۔"
سیاسی حمایت اور پالیسی وژن
مامدانی کو برنی سینڈرز اور الیکزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز جیسے معروف ترقی پسند رہنماؤں کی حمایت حاصل رہی۔
جبکہ کومو کی حمایت میں ہیلری کلنٹن اور مائیکل بلومبرگ جیسے قدامت پسند ڈیموکریٹس شامل تھے۔
مامدانی کا ایجنڈا:
فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنا
پولیس بجٹ میں کمی اور سماجی خدمات پر توجہ
قابلِ رہائش مکانات اور صحت کی سہولیات
نوجوان اور اقلیتی ووٹرز کو متحرک کرنا
ظہران مامدانی: ایک مختصر تعارف
پیدائش: یوگنڈا میں بھارتی نژاد مسلم خاندان
پیشہ: نیویارک کے علاقے کوئنز سے منتخب اسمبلی ممبر
شناخت: خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہتے ہیں
معروف موقف: ترقی پسند اور اقلیت دوست بیانیہ
مستقبل کی جھلک
اگر وہ نومبر 2025 کے عام انتخابات میں جیت جاتے ہیں، تو:
وہ نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن جائیں گے
اور امریکا کی تاریخ میں ترقی پسند تحریک کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کریں گے
مبصرین کیا کہہ رہے ہیں؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ظہران مامدانی کی مقبولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نیویارک کے شہری، خاص طور پر نوجوان اور اقلیتی برادریاں، اب روایتی سیاست سے ہٹ کر زیادہ شمولیتی، ترقی پسند اور انصاف پر مبنی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔