2 ہفتوں میں 100 امریکی فوجی زخمی :پینٹاگون کی تصدیق

تہران،واشنگٹن(خصوصی رپورٹ)امریکی افواج کی مسلسل دسویں رات ایران کے جنوبی اور مغربی علاقوں پر بمباری کے جواب میں ایران نے منگل کے روز بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر بھی حملے کی زد میں آ گیا۔لڑائی کا حالیہ مرحلہ امریکی افواج کیلئیجنگ کا سب سے خونریز مرحلہ ثابت ہوا ہے۔ ہفتے کے اختتام تک امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی۔پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ 7 جولائی 2026 سے اب تک تقریباً 100 اہلکار مختلف نوعیت کے زخموں کا شکار ہوئے، تاہم ان میں سے 96 فیصد دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا ریکارڈ رکھنے والے ڈیفنس کیڑولٹی اینالیسس سسٹم (ڈی سی اے ایس) کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے آغاز سے اب تک 413 امریکی فوجی اہلکار کارروائی کے دوران زخمی ہوئے ہیں، تاہم اس تعداد میں اس ماہ کے زخمی شامل نہیں ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ اس نے اپنی تازہ کارروائیوں میں ایران کے فوجی کمانڈ مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے شہر شیراز کے اطراف دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ جنوبی ساحلی شہروں کنارک اور چاہ بہار، مغربی شہر خرم آباد اور عبدانان کے باہر ایک شہری مقام پر بھی حملے کیے گئے۔ تاہم بعد ازاں ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے خرم آباد کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ وہاں دشمن کا کوئی حملہ نہیں ہوا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کرمان کے علاقے رودبارِ جنوبی کی فضاو ں میں امریکی فوج کی جانب سے داغے گئے کروز میزائل کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انہوں نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی ایران کے مجوزہ دارخوین جوہری بجلی گھر کے تعمیراتی مقام پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایرانی افواج نے بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود امریکی فوجیوں کی رہائشی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے منگل کو کویت میں واقع تین امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے کیے جبکہ کویت کا کہنا ہے کہ ایران کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں مسلسل چوتھے روز متعدد بجلی گھروں اور پانی کے (ڈی سیلینیشن) پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی اہم تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں بھی ایک امریکی فوجی مقام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اردن کے علاقے رکبان میں اس کے حملوں کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب اردن نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے ایران کے پانچ ڈرون مار گرائے۔برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بتایا کہ منگل کے روز آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر ایک گولہ آ کر لگا، جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑ کر لائف بوٹ میں منتقل ہونا پڑا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو آئل ٹینکر دھماکوں کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔جہاز رانی سے متعلق ادارے کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز صرف چار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں سے زیادہ تر نے ایران کے ساحل کے قریب شمالی بحری راستہ اختیار کیا، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد سات تھی۔اسرائیل نے ایران پر تازہ امریکی حملوں میں حصہ نہیں لیا۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے منگل کو کہا، "ہم اس تنازع میں شامل ہونا نہیں چاہتے، لیکن ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں۔خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناو  کے پیش نظر دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کیلئے نیا عالمی سفری انتباہ جاری کر دیا۔