دہشت گردی کے ایک مقدمے میں گرفتار مبینہ سہولت کار کے اعترافی بیان میں شدت پسند نیٹ ورک، بھتہ خوری اور مذہب کے نام پر مبینہ طور پر غیر شرعی فتاویٰ کے استعمال سے متعلق اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار شخص، جس کی شناخت مفتی ظفریاب کے نام سے کی گئی ہے، نے دعویٰ کیا کہ اس نے درسِ نظامی جامع نظام العلوم بنوں اور بعد ازاں تخصص فی الفقہ المرکز اسلامی غوریوالہ سے حاصل کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کا تعلق ایک شدت پسند گروہ کے سہولت کار کے طور پر رہا ہے۔حکام کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ ایک شدت پسند کمانڈر کا سرگرم ساتھی اور اس سے منسلک شوریٰ کا رکن رہا، جبکہ بھتہ خوری اور سرمایہ داروں کو دھمکانے کے لیے اس سے مبینہ طور پر غیر شرعی فتاویٰ حاصل کیے جاتے تھے۔ملزم کے مطابق اسے شدت پسند سرگرمیوں میں معاونت کے لیے مختلف اوقات میں مالی فوائد، عہدوں اور دیگر مراعات کی پیشکش بھی کی جاتی رہی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مذکورہ شدت پسند گروہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور وہ مسلمانوں کے قتل کو بھی جائز قرار دیتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان انکشافات کے بعد غیر قانونی مدارس کی نگرانی اور رجسٹریشن کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر قانونی مدارس اور ان سے وابستہ عناصر کی شفاف جانچ پڑتال شدت پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اہم ہے۔یاد رہے کہ وفاق المدارس العربیہ سمیت دینی مدارس کی نمائندہ تنظیموں کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق معاہدہ 2019 سے نافذ العمل ہے، جبکہ حکومت مدارس کی نگرانی، نصاب میں یکسانیت اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی زور دے رہی ہے۔