انسانی انا سے پیدا ہونے والا موجودہ بحران

محمد تسنیم رضا
28فروری کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے بہکاوے میں آکر ایران پر اسرائیل کے ساتھ مل کر  حملہ کر دیا اور ایران کے سپریم لیڈر جناب !آیت اللہ خامنہ ای سمیت  تقریبا تمام سرکردہ قیادت کو شہید  کر دیا   جو کہ سراسر زیادتی اور ظلم تھا اور پوری  دنیا نے اس ظلم اور زیادتی کے خلاف بساط بھر آواز بھی اٹھائی۔بساط بھر ہی اٹھا سکتی تھی کیونکہ امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملے کے بعد دنیا کو اتنا خوفزدہ کیا ہوا ہے کہ دنیا کسی اوربڑے  سانحہ کا سامنا کرنے  کے لئے شعوری یا  لاشعوری طور پر تیار نہیں۔اس خوف اور ٹرمپ کے جنگ  میں شامل ہونے والے دباوکے باوجود 
بھی یورپین ممالک نے  ایران کے خلاف  امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا جوکہ قابل ستائش ہے اور اس کے لئے یورپ کی تعریف بنتی ہے  امریکہ کی  زیادہ تر وہ منصف مزاج عوام  بھی قابل تعریف ہے جس نے  اپنے صدر ٹرمپ کی حمایت نہیں کی اور اس  حملے کو ظلم و زیادتی قرار دیا۔ 
 ایران نیخود پر مسلط کردہ جنگ کے جواب میں وہی کیا   جو ایک غیرت مند اور خوددار قوم کو کرنا چاہئے تھا۔اس نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے وجود کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ  امریکہ کے سپر پاور ہونے کے زعم کو بھی خاک میں ملا دیا۔ ایران میں اتنی جنگی طاقت تو نہ تھی کہ وہ امریکہ جیسے دور دراز ملک پر جوا  بی حملہ کر کے آیت اللہ خامنہ ای اور دوسرے شہدا کا بدلہ لے سکے۔اس کے پاس ایک ہی راستہ تھا خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کرنا اور وہ ایران نے کیا۔اس نے اپنے ڈرون  اور میزائل ٹیکنالوجی کے ساتھ نہ صرف اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے بلکہ خطے میں موجود امریکن اڈوں کو بھی خوب نشانہ بنا یا۔ اس ایک خلیجی ملک پر بھی اسرائیل سے زیادہ حملے کئے جس پر اسرائیل نواز ہونے کا شبہ تھا  ۔ان حملوں میں ایران نے  اس ملک کی بے انتہا بڑھی ہوئی معاشی طاقت کو بھی ایک بار تباہ   و بربادکر کے رکھ دیا۔ساتھ ہی  جب ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی تو ساری دنیا ہل کر رہ گئی۔آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے صدر ٹرمپ  مزید دباو میں آگئے، کیونکہ ساری دنیاانہیں قصور وار ٹھہرانے لگی کہ انہی کے اقدامات کی وجہ سے تمام دنیا کو مسائل کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
چونکہ آبنائے ہرمز سے دینا کی بیس فیصد توانائی کی تجارت ہوتی ہے ،اس لئے جب   گزرگاہ بند ہوئی تو اس کی حدت ساری دنیا میں محسوس ہوئی۔بہت سارے ملکوں میں بشمول پاکستان پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو گئیں ، نہ صرف مہنگی ہوئیں بلکہ پٹرول کی دستیابی بھی مشکل ہو گئی۔ دنیا کے اکثر ممالک میں پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔مہنگائی کی اس لہر سے امریکہ جیسا تیل میں خود کفیل ملک بھی محفوظ نہ رہا اور وہاں بھی تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔مشرق وسطی میں امریکی تنصیبات پر حملے  اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے مسائل نے امریکہ کو مجبور کر دیا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرے۔ تاکہ دنیابھر میں آبنائے ہرمز  کی بندش سے پیدا ہونے والے معاشی نقصان اور مہنگائی کو  ختم کیا جا سکے۔یہ الگ بات ہے کہ اس بندش کی وجہ سے امریکی کمپنیوں کے ساتھ کچھ دوسرے ممالک کی  کمپنیوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور اپنے منافع میں اندھا دھند اضافہ کیا، لیکن عام لوگوں کو زندگی پوری دنیا میں متاثر ہوئی اور وہ ٹرمپ کو کوسنے لگے اسی وجہ سے 
آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لئے پاکستان کی خدمات حاصل کی گئیں۔پاکستان جو کہ خود بھی  خطے میں امن دیکھنا چاہتا تھا اور اپنے ایرانی بھائیوں کو مزید آزمائش سے محفوظ رکھنا چاہتا تھا ،امن کا حامی تھا اور یہ چاہتا تھا کہ مشرق وسطی میں مسلم امہ کی جانوں و مال کو ارزاں ہونے سے بچاِیا جائے۔ اسی لئے پاکستان نے بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی اور  بالآخر فریقین کو تقریبا نصف صدی بعد اسلام آباد میں آمنے سامنے بٹھانے میں کامیا ب ہو گیا۔لیکن جب مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچے  تو ٹرمپ کی انا آڑے آئی اور  امریکی   معاہدہ ادھورا چھوڑ کر  چلے گئے۔آبنائے ہرمز کی بندش سے ساری دنیا تکلیف میں تھی اور ٹرمپ  کو جنگ بندی کا کہا  جا رہا تھا جنگ بندی تو وہ بھی چاہتا تھا لیکن اس کے ساتھ اپنی انا کا بھرم بھی قائم رکھنا چاہتا تھا۔دوسری طرف ایرانی بھی انا پرست ٹھہرے وہ بھی پروں پر پانی نہیں ٹھہرنے دیتے تھے اور ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے۔وہ تو بھلا ہو پاکستان کا جس کی مخلصانہ اور بے لوث کوشش سے اور برادر ملک قطرکے کچھ کہے سنے سے سویئزر لینڈ میں مذاکرات ممکن ہوئے ۔حالانکہ 
 ،اس دوران بھی فریقین نے انا کے منہ زور گھوڑے پر کئی بار سواری کی لیکن پاکستان نے بڑَ ے صبر ،برداشت اور حکمت عملی کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کروا کر جنگ بندی کر وا دی۔جس کی وجہ سے پاکستان کے قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہوا اور دنیا کے امن پسند لوگوں نے بھی سکھ کا سانس لیا
 ۔یہ معاہدہ  اصل میں ایران کی واضح برتری اور امریکہ کی شکست کا منہ بولتا ثبوت تھا ،کیونکہ امریکہ جو عزائم لے کر ایران پر حملہ آور ہوا تھا ان عزائم کی تکمیل میں یکسر ناکام ہوا تھا۔ نہ تو وہ کوئی رجیم چینچ لا سکا اور نہ ہی ایران کے پائے استقامت میں کوئی لغزش پیدا کر سکا۔یہ چودہ  نکاتی 
 معاہدہ اصل میں امریکہ کی  ایسی شکست تھی جس کا ساری دنیا نے اعتراف کیا اور ٹرمپ کو اپنے ملک کی عوام کی طرف سے بھی  تنقید کا سامنا کر نا پڑا  ۔یہ  ایسا ایم او یو تھا جس نے امریکہ کے سپر پاور  والے غبارے سے  بھی ہو ا نکال دی کیونکہ اس میں ایران کی تمام شرائط کو مان لیا گیا تھا۔ ایران کو نہ صرف اخلاقی  فتح حاصل ہوئی بلکہ معاہدہ کے نتیجے میں ایران کو ایسے فوائد حاصل ہوئے جو کسی صورت ممکن نہ تھے۔اسے پٹرولیم مصنوعات بیچنے کی اجازت ملی  اس کے اثاثہ جا ت کی بحالی کی بات ہوئی اور تین سو ارب ڈالر کا پیکج بھی شامل کیا گیا جو مشرق وسطی کے ممالک نے مہیا کرنا تھا ،مدتوں سے پسے ہوئے ایران کی پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں آگیا۔اس کے بدلے میں ایران نے امریکہ کو دیناکیا تھا ،صرف "باعزت واپسی کا راستہ "جس کا امریکہ سپر پاور ہونے کے دعوی کی وجہ سے خواہش مند تھا۔لیکن ہائے   اس انا کا کیا کیا جائے اس نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے سے روکے رکھا اور آج ایرا ن یقینا پہلے سے زیادہ مشکل میں ہے۔اس انا نے اسلام آباد معاہدہ تو ایران سے معطل کر وا دیا لیکن اب ایران اس اقوام متحدہ سے امن معاہدہ کی اپیل کر رہا ہے جو مسئلہ کشمیر ، مسئلہ فلسطین سمیت دنیا کا کوئی ایک بھی مسئلہ حل نہیں کروا سکا۔   اب دیکھتے ہیں انا کی اس جنگ میں حقیقی جنگ ختم ہوتی ہے یا اپنے ساتھ مشرق وسطی کو ڈبو کر ختم ہو گی۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تویہ وہ وقت ہو گا جب  انا نہیں رہے گی بلکہ صرف وہ افسوس رہ جائے گا جس نے گریٹر اسرائیل بننے کی راہ ہموار کی ہو گی۔
پاکستان میں بھی آج کل کچھ شخصیات انا کے گھوڑے پر سوار نظر آتی ہیں ،جن میں  سے ایک تو محترم مولانا فضل الرحمان ہیں۔میں پورے پاکستان میں مولانا کے پائے کا سیاستدان کسی اور کو نہیں سمجھتا۔مولانا نے ضیاء￿ الحق کا دست و بازو بننے سے گریز کیا ،جہاد افغانستان کاایندھن بننے سے انکاری ہوئے ،آئی جے آئی کا حصہ نہ بننے کا دانش مندانہ فیصلہ کیا ،   خود کش حملوں کو حرام قرار دیا اورخود کش حملے برادشت کئے۔انتہائی سوچ سمجھ کر بولنے والے ،بہت زیرک سیاستدان اوران کے محب وطن ہونے میں بھی کوئی شک نہیں۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ شہداء￿ کے بارے میں کہے گئے الفاظ بالکل مناسب نہیں۔ اگر جوش خطابت میں( جس کا امکان مولانا جیسی صاحب علم اور زیرک شخصیت سے بہت کم ہے)  ایسی کوئی بات منہ سے نکل گئی ہے جس سے شہداء￿   کا احترام مجروع ہوتا ہے تو اس بات سے رجوع کرنے میں حرج کیا ہے۔کیا بڑے لوگوں سے بڑی غلطیاں نہیں ہوتیں  ؟اگر ہو جاتی ہیں تو ان غلطیوں سے رجوع کر لینا بھی بڑا پن ہے اور اس بڑے پن میں  انا کو آڑے نہیں آنا چاہیے۔
ہمارے دوسری شخصیت ہیں محترمہ !نورین نیازی بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ محترمہ۔ ہم سب کے لئے بھی  خاتون ہونے کی حیثیت سے انتہائی قابل احترام۔ یہ جو فرماتی ہیں میں اس کو یہاں دہرانا  بالکل مناسب نہیں سمجھتا ،کیونکہ جس جملے سے میرے وطن کی عظمت پر آنچ آتی ہو، اس کو لکھنا میرے حوصلے سے کہیں زیادہ ہے۔صرف اتنا کہوں گاکہ کاش وہ انا کی اسیر ہو کر مودی کی جھوٹی عظمت نہ بڑھاتیں  اور وطن عزیز کی تحقیر نہ کرتیں