سڑکوں پر دوڑتی انا

 بینش خاں
دن ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے، مگر ہماری زندگیاں اکثر ایک جیسی ضرور ہو جاتی ہیں۔
ہر صبح سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہزاروں انسان اپنے اپنے خواب، مجبوریاں اور ذمہ داریاں اٹھا کر گھروں سے نکلتے ہیں۔ کوئی اپنے بچوں کی فیس کمانے جا رہا ہوتا ہے، کوئی بیمار ماں کی دوا کے لیے، کوئی اپنی ڈگری کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے، تو کوئی صرف اس امید پر کہ شاید آج شام گھر واپس لوٹے تو چولہا جل سکے۔
سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں محض لوہا نہیں ہوتیں، ان میں بیٹھے ہر انسان کے ساتھ ایک الگ کہانی سفر کر رہی ہوتی ہے۔ کسی کے ذہن میں مہینے کے آخر کے اخراجات گردش کر رہے ہوتے ہیں، کوئی اپنے انٹرویو کی فکر میں گم ہوتا ہے، کوئی کسی عزیز کی عیادت کے لیے جا رہا ہوتا ہے، اور کوئی خاموشی سے اپنی زندگی کے بکھرے ہوئے حصوں کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
یہ دنیا بھی عجیب ہے۔
ہم روز سینکڑوں چہروں کے پاس سے گزرتے ہیں، مگر ان کے دلوں میں کیا طوفان برپا ہے، اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ ہم صرف چہرے دیکھتے ہیں، کہانیاں نہیں۔
شاید اسی لیے ہم جلد فیصلے بھی کر لیتے ہیں، جلد غصہ بھی کر لیتے ہیں، اور جلد ایک دوسرے کو مجرم بھی بنا دیتے ہیں۔
وہ بھی جولائی کا ایک جھلسا دینے والا دن تھا۔ سورج جیسے آسمان پر نہیں بلکہ ہمارے سروں پر کھڑا تھا۔ گرمی، حبس، دھواں، شور... اور ان سب کے درمیان ہر شخص اپنے دن کو جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش میں تھا۔
مجھے بھی اکیلے سفر کرنا تھا۔
ایک عورت جب اکیلے گھر سے نکلتی ہے تو وہ صرف اپنا بیگ نہیں اٹھاتی، وہ اپنے ساتھ احتیاط، خوف، ذمہ داری، حوصلہ اور بے شمار خدشات بھی لے کر نکلتی ہے۔ وہ ہر موڑ پر خود کو مضبوط ثابت کرتی ہے، ہر فیصلے کی ذمہ داری خود اٹھاتی ہے، اور ہر اجنبی راستے پر اپنے اعتماد کو سہارا بناتی ہے۔
میں بھی خاموشی سے رکشے میں بیٹھی تھی۔ کانوں میں قوالیوں کی دھن تھی اور ذہن کہیں دور اپنے ہی خیالوں میں گم تھا۔
مگر سڑکوں کو شاید انسانوں کے سکون سے دشمنی ہے۔
انڈر پاس کے قریب ٹریفک اچانک رک گئی۔ ہمارا رکشہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نہ دائیں راستہ تھا نہ بائیں۔
اسی لمحے ایک کار نے زبردستی اپنی جگہ بنانی چاہی۔
اگر رکشہ بروقت نہ رکتا تو شاید چند لمحوں بعد صرف چیخیں سنائی دیتیں۔
غلطی واضح تھی، مگر انا کو غلطی ماننا کب پسند آیا ہے؟
گاڑی رکی، صاحب نیچے اترے، رکشے کا پیچھا شروع ہوا، آوازیں بلند ہوئیں، گالیاں برسنے لگیں، جیسے ساری دنیا کی خطا صرف ایک غریب رکشہ ڈرائیور نے کی ہو۔
ہم بار بار کہتے رہے، "بھائی، جانے دیں... اللہ کے لیے بات ختم کریں۔"
مگر جب انسان کے اندر انا جاگ جائے تو دلیل مر جاتی ہے۔
اسی دوران میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک اور خاتون پر پڑی۔
وہ اپنے رکشے والے سے صرف دس روپے کے لیے اس شدت سے بحث کر رہی تھیں جیسے دونوں کی عزت کا فیصلہ انہی دس روپوں پر ہونا ہو۔ آوازیں اتنی بلند ہوئیں کہ آس پاس کے لوگ بھی متوجہ ہو گئے۔ اسی الجھن اور شور میں گاڑیاں مزید رک گئیں، راستہ مزید بند ہوا، اور کئی اور لوگ اس بے مقصد کشمکش کا حصہ بن گئے۔
میں سوچنے لگی...
کیا واقعی مسئلہ دس روپے تھے؟
یا ہم نے برداشت کی قیمت دس روپے سے بھی کم کر دی ہے؟
اس دن سب سے زیادہ تکلیف کسی ایک جھگڑے نے نہیں دی۔
تکلیف اس بات نے دی کہ سڑک لوگوں سے بھری ہوئی تھی، مگر انسان کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ہجوم تھا، تماشائی تھے، موبائل تھے، نظریں تھیں...
مگر کوئی ایک شخص آگے بڑھ کر یہ نہ کہہ سکا کہ "بھائی، مسئلہ کیا ہے؟ بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں۔"
اس دن محسوس ہوا کہ بعض اوقات ہزاروں لوگوں کے درمیان بھی انسان تنہا ہوتا ہے۔
یہ معاملہ ختم ہوا تو میں نے رکشہ والے کے ہاتھوں کی لرزش محسوس کی۔
اس نے ہم سے معمول سے کچھ زیادہ کرایہ لیا۔
چاہتی تو بحث کر سکتی تھی۔
مگر پھر خیال آیا...
شاید اس کے ذہن میں اب بھی وہ جھگڑا چل رہا ہے۔
شاید وہ سوچ رہا ہو کہ اگر بات ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی تو؟
شاید اسے اپنے بچوں کا خیال آیا ہو۔
شاید وہ صرف یہ سوچ رہا ہو کہ شام تک روزی پوری ہو جائے گی یا نہیں۔
کیا معلوم اس کے گھر میں کوئی اس کا انتظار کر رہا ہو...
کیا معلوم اس کے بچوں نے دوپہر کا کھانا کھایا بھی ہو یا نہیں...
کیا معلوم وہ دوبارہ سواری اٹھا بھی سکا ہو یا نہیں...
ہم اکثر کرایہ گن لیتے ہیں، مگر کسی کی مجبوری نہیں گنتے۔
میں ابھی انہی خیالوں میں تھی کہ اگلے رکشے میں ایک اور منظر میرا منتظر تھا۔
ایک شخص کا بازو ٹوٹا ہوا تھا۔
دوسرے کے قدموں میں پھلوں کی بھاری پیٹی رکھی تھی۔
ایک اور مسافر آیا اور بیٹھنے کی ضد کرنے لگا۔
زخمی آدمی نے نہایت ادب سے صرف اتنا کہا،
"بھائی، بازو ٹوٹا ہوا ہے... زیادہ سرک نہیں سکتا۔"
یہ انکار نہیں تھا۔
یہ درد تھا۔
مگر شاید آج کل درد سننے کی فرصت کس کے پاس ہے؟
بات بڑھتے بڑھتے رکشہ ڈرائیور تک پہنچی۔
اس نے بات سمجھنے کے بجائے غصے میں زخمی شخص کا گریبان پکڑ لیا۔
"میری روزی روٹی پر لات مارو گے؟"
یہ جملہ سن کر میں خاموش ہو گئی۔
ایک طرف ٹوٹا ہوا بازو تھا۔
دوسری طرف خالی جیب۔
دونوں مجبور تھے۔
دونوں پریشان تھے۔
دونوں شاید صبح سے تھکے ہوئے تھے۔
مگر دونوں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔
میں واپسی کے پورے راستے یہی سوچتی رہی کہ آخر ہم جا کہاں رہے ہیں؟
روز خبروں میں سنتے ہیں کہ قیامت قریب ہے۔
لیکن کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ قیامت شاید صرف ایک دن نہیں آئے گی۔
وہ آہستہ آہستہ ہمارے رویوں میں اتر رہی ہے۔
جب کسی زخمی انسان کے درد سے زیادہ ہمیں اپنی انا عزیز لگنے لگے...
جب دس روپے ایک انسان کی عزت سے بڑے ہو جائیں...
جب سینکڑوں لوگ کسی جھگڑے کے گرد کھڑے رہیں مگر ایک شخص آگے بڑھ کر صلح نہ کروا سکے...
جب ہم دوسروں کی تکلیف کو دیکھنا چھوڑ دیں...
تو شاید قیامت کا آغاز آسمان سے نہیں، ہمارے دلوں سے ہوتا ہے۔
غربت آج بھی مسئلہ ہے۔
مہنگائی بھی مسئلہ ہے۔
بے روزگاری بھی مسئلہ ہے۔
مگر ان سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے۔
ہم سڑکوں پر اکٹھے چلتے ضرور ہیں...
مگر ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چلتے۔
شاید اسی لیے آج ہماری سڑکوں پر صرف گاڑیاں نہیں دوڑتیں...
انا بھی دوڑتی ہے۔
اور جب انا رفتار پکڑ لے تو حادثے صرف گاڑیوں کے نہیں ہوتے...
انسانیت کے بھی ہوتے ہیں۔