عاصم فاروق
افغان مہاجرین کی واپسی کا حکومتی فیصلہ پاکستان میں مختلف حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان اسے انسانی بحران قرار دے رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے، تاہم اس کے اثرات پر متضاد آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کیا یہ فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے، یا اس سے مزید چیلنجز جنم لیں گے؟
انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے اس فیصلے پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاکھوں افغان شہری، جو کئی دہائیوں سے پاکستان میں آباد ہیں، اچانک بے دخل ہونے کے بعد شدید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ افغانستان میں معاشی عدم استحکام اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث ان افراد کے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا مشکل ہوگا۔ مزید برآں، انسانی حقوق کے کارکنان کا مؤقف ہے کہ بہت سے افغان شہری پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے، ان کی شناخت اور روزگار پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے بچوں نے یہاں کی تعلیم حاصل کی اور وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ ایسے میں، انہیں زبردستی واپس بھیجنا غیر منصفانہ ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کو بے دخل کرنے سے پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی مہاجرین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دیتے ہیں۔ اگر پاکستان لاکھوں افراد کو اچانک بے دخل کر دیتا ہے، تو یہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستانی حکومت کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ حکومت کے مطابق لاکھوں غیر قانونی افغان شہریوں کی موجودگی ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ پاکستان پہلے ہی شدید معاشی بحران، بے روزگاری اور مہنگائی کا شکار ہے، اور ایسے میں غیر قانونی مہاجرین کے قیام سے مسائل مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ سیکیورٹی خدشات بھی اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ کئی رپورٹوں میں افغان شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جن میں اسمگلنگ، دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کچھ دہشت گرد گروہ افغان مہاجرین کی آڑ میں پاکستان میں داخل ہو کر ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس لیے ان کی واپسی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ پاکستانی حکام یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک بھی غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرتے ہیں۔ امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک سخت امیگریشن قوانین پر عمل کرتے ہیں اور غیر قانونی افراد کو ملک سے نکال دیتے ہیں، تو پھر پاکستان کو بھی اپنی سلامتی اور معیشت کے تحفظ کے لیے یہی حق حاصل ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ مہاجرین کا مسئلہ جذباتی نہیں بلکہ عملی اور منطقی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دے کر اپنا انسانی اور اسلامی فرض پورا کیا، مگر یہ مہمان نوازی مستقل نہیں ہو سکتی۔ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے، طالبان کی حکومت قائم ہے، اور اب افغان شہریوں کو واپس جا کر اپنے ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد کے مطابق ہے، کیونکہ ہمارے وسائل پہلے ہی محدود ہیں۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو مزید برداشت کرنا ممکن نہیں، خاص طور پر جب وہ پاکستانی معیشت، سیکیورٹی اور وسائل پر اضافی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس لیے حکومت کو اپنے مؤقف پر قائم رہنا چاہیے اور بین الاقوامی دباؤ میں آئے بغیر افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو مکمل کرنا چاہیے۔ تاہم، اس عمل کو انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے مطابق انجام دینا ضروری ہے، تاکہ واپسی کا عمل منصفانہ اور شفاف ہو۔ پاکستان نے چالیس سال تک افغان مہاجرین کی مدد کی، اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے ملک واپس جا کر اپنی زمین پر نئی زندگی کا آغاز کریں۔ یہ فیصلہ مشکل ضرور ہے، مگر پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے ضروری بھی ہے۔