چندی گڑھ: بھارتی فضائیہ نے اپنے تاریخ ساز مگر متنازع سمجھے جانے والے میگ-21 لڑاکا طیاروں کو آخرکار 19 ستمبر کو باضابطہ طور پر ریٹائر کر دیا، جس کے ساتھ ہی ان طیاروں کی تقریباً 62 سالہ سروس کا اختتام ہو گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریٹائرمنٹ کی خصوصی تقریب چندی گڑھ ایئربیس پر منعقد ہوئی، جو نہایت علامتی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ وہی مقام ہے جہاں اپریل 1963 میں پہلا میگ-21 اسکواڈرن تعینات ہوا تھا۔ تب ان طیاروں کو سوویت یونین سے درآمد کیا گیا تھا، اور ابتدائی پروازیں سوویت پائلٹس نے ہی کی تھیں۔
حادثات اور جانی نقصان
بھارتی فضائیہ نے اب تک 876 میگ-21 طیارے استعمال کیے جن میں سے تقریباً 490 طیارے مختلف حادثات میں تباہ ہو چکے ہیں۔ ان واقعات میں 170 سے زائد بھارتی پائلٹس جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس کے باعث ان طیاروں کو "اڑتا تابوت" (Flying Coffin) بھی کہا جاتا تھا۔
جنگی خدمات
میگ-21 طیاروں نے بھارت کی کئی بڑی جنگوں، خاص طور پر 1971ء کی پاکستان کے خلاف جنگ اور کارگل تنازعے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہیں طویل عرصے تک بھارت کا سب سے بنیادی جنگی طیارہ تصور کیا جاتا رہا۔
موجودہ صورت حال
اس وقت بھارتی فضائیہ کے پاس دو میگ-21 اسکواڈرن موجود تھے، جنہیں اب مکمل طور پر غیرفعال کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرن کی کل تعداد 29 رہ جائے گی، جو کہ 42 اسکواڈرن کے مطلوبہ ہدف سے خاصی کم ہے۔یہ صورتحال دونوں محاذوں پر جنگی تیاریوں (پاکستان اور چین کے خلاف بیک وقت جنگ) کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔
تیزس مارک-1اے کی تاخیر
میگ-21 کی جگہ لینے کے لیے بھارت کی تیار کردہ تیزس مارک-1اے (Tejas Mk-1A) طیاروں کی فراہمی میں بھی تاخیر کا سامنا ہے۔ مارچ 2024 سے ان طیاروں کی فراہمی شروع ہونا تھی، ہر سال کم از کم 16 طیارے بھارتی فضائیہ کو دیے جانے تھے، مگر تاحال ایک بھی طیارہ فراہم نہیں کیا جا سکا۔