یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی بحری جنگی بیڑے "یو ایس ایس ہیری ٹرومین" پر دوسری بار حملہ کیا ہے۔
اس حملے میں ڈرونز، بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ حوثی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ پر حملے بند نہیں کرتا، وہ امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے رہیں گے۔اس کے جواب میں امریکہ نے یمن پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن میں یمن کے شہر سعدہ میں کینسر کے علاج کی سہولت اور زراعت کے ذخائر کو تباہ کر دیا گیا۔ یمنی حکام کے مطابق، ان حملوں میں رہائشی علاقے بھی نشانہ بنے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر انسانی اور مادی نقصان ہوا۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے یمنی عوام کی مزاحمت کو سراہا اور کہا کہ یمنی قوم صرف مزاحمت کے راستے پر چل کر فتح حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت یمن کی حمایت ضروری ہے تاکہ وہ اپنی جنگ میں کامیاب ہو سکیں۔
ایران کی فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے بھی امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو ایران فیصلہ کن جواب دے گا۔روس نے بھی امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ یمن پر اپنے فضائی حملے فوراً بند کرے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو میں یمن پر فضائی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ روس نے یمن میں جاری بحران کو مزید پیچیدہ بنانے کی مخالفت کی اور امریکہ سے جنگی اقدامات کو روکنے کی اپیل کی۔یہ واقعات یمن میں جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں، اور عالمی سطح پر اس تنازعے کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔