ویب ڈیسک: کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس (ڈی ایچ اے) میں مردہ حالت میں پائی جانے والی اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی پراسرار موت کی پولیس تحقیقات حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔
تفتیشی حکام نے میڈیکل رپورٹس حاصل کر لی ہیں جبکہ فارنزک اور ڈی این اے رپورٹ بھی تیار کی جا رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق رپورٹ میں موت کو طبی قرار دیا گیا ہے، تاہم کچھ پہلو اب بھی وضاحت طلب ہیں۔ تحقیقات میں اداکارہ کے میک اپ آرٹسٹ کے دیے گئے بیان پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
میک اپ آرٹسٹ کے انکشافات:
حمیرا کے میک اپ آرٹسٹ کا کہنا ہے کہ:حمیرا کا موبائل فون 5 فروری 2025 تک واٹس ایپ پر ایکٹیو نظر آ رہا تھا۔7 اکتوبر 2024 تک ان کا لاسٹ سین موجود تھا۔اس کے بعد ڈی پی غائب ہونا اور لاسٹ سین کا بند ہو جانا ممکن نہیں جب تک موبائل استعمال نہ کیا گیا ہو۔
اہم نکتہ:
ایک موبائل فون اب بھی غائب ہے جو حمیرا اصغر کے استعمال میں تھا، اور اسی کی تلاش پولیس کی تفتیش کا مرکزی حصہ بن گئی ہے۔
پس منظر:
اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی 2025 کو ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے ملی تھی، جہاں وہ 2018 سے اکیلی رہائش پذیر تھیں۔ واقعے نے شوبز حلقوں اور عوام میں گہرے صدمے اور تجسس کو جنم دیا۔
پولیس کا موقف:
حکام کا کہنا ہے کہ میڈیکل اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر کیس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حمیرا کی موت قتل تھی یا قدرتی؟ اس سوال کا حتمی جواب رپورٹس اور غائب موبائل کی بازیابی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔