اداکارہ حمیرا اصغر کی موت معمہ بن گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی خاموش

اداکارہ حمیرا اصغر کی موت معمہ بن گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی خاموش

ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت کی گتھی تاحال سلجھ نہیں سکی۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ بھی ان کے موت کی وجوہات پر کوئی واضح روشنی نہ ڈال سکی۔

 جسم پر تشدد یا زخم کے آثار نہیں ملے، چہرہ ناقابلِ شناخت تھا، اور جسم گل سڑ چکا تھا۔

موت کب ہوئی؟ ماہرین خاموش
ابتدائی رپورٹ کے مطابق، اداکارہ کی موت 8 سے 10 ماہ پہلے واقع ہوئی۔ طبی ماہرین کے مطابق لاش ڈی کمپوزیشن (سڑنے) کے آخری مراحل میں تھی، جس کے باعث نہ تو جسم پر واضح زخم دیکھے جا سکے اور نہ ہی کسی جنسی زیادتی یا تشدد کے شواہد دستیاب ہو سکے۔

فوری سوال: اداکارہ اتنے عرصے تک کہاں تھیں؟
حمیرا اصغر کی موت سے قبل طویل گمشدگی نے معاملے کو مزید پرسرار بنا دیا ہے۔7 اکتوبر 2024 کے بعد سے ان کا کوئی سوشل میڈیا پوسٹ سامنے نہیں آیا تھا۔5 فروری 2025 کو ایک میگزین نے ان کی گمشدگی کی خبر سوشل میڈیا پر شائع کی، جس میں کہا گیا کہ اداکارہ پچھلے کئی ماہ سے منظر عام سے غائب ہیں۔اس پوسٹ کے باوجود نہ اہلِ خانہ اور نہ ہی پولیس نے کوئی واضح اقدام کیا۔
کیمیائی تجزیے کے لیے ثبوت بھجوادیے گئے
پوسٹ مارٹم کے دوران اداکارہ کے بالوں اور شرٹ کے ٹکڑے کو کیمیائی تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں پائی گئی۔ناخن ہڈی سے الگ ہو چکے تھے، جو ڈی کمپوزیشن کے باعث ممکن ہے۔چہرہ ناقابل شناخت ہو چکا تھا۔
تدفین لاہور میں کر دی گئی
اداکارہ کی باقیات کو لاہور میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان کی موت کے حوالے سے کئی سوالات بدستور جواب طلب ہیں:

اداکارہ 8 ماہ تک کہاں اور کن حالات میں تھیں؟
ان کی گمشدگی کی رپورٹ کیوں درج نہ ہوئی؟
اہلخانہ یا قریبی دوستوں نے کیوں خاموشی اختیار کی؟