اسرائیل کی جانب سے ہیبرون میں واقع تاریخی اور مذہبی مقام "آبا کے مقبرے" (Tomb of the Patriarchs) اور مسجدِ ابراہیمی کا انتظامی کنٹرول سنبھالنے کا اعلان ایک نیا اور حساس تنازعہ بن گیا ہے، جس نے فلسطینی اتھارٹی اور عرب دنیا میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔
واقعے کا خلاصہ:
اسرائیلی سول انتظامیہ (COGAT) نے اعلان کیا ہے کہ وہ تعمیراتی کام کے لیے اس مقام کا کنٹرول وقتی طور پر سنبھال رہی ہے۔
اس کا مقصد بتایا گیا ہے کہ مقبرے کے ایک صحن میں شامیانہ (شیڈ) نصب کیا جائے تاکہ عبادت گزاروں کے لیے سہولت ہو۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلامی وقف (جو فلسطینی میونسپلٹی کے ساتھ مل کر مسجد کا انتظام کرتا ہے) نے ضروری تزئین و آرائش کے سلسلے میں تعاون نہیں کیا، جس کے باعث یہ اقدام اٹھانا پڑا۔
یہودی سیٹلر کونسل نے دعویٰ کیا ہے کہ اب وہ مقام کی روزمرہ کارکردگی کی ذمہ دار ہے، جبکہ اسرائیلی سول انتظامیہ نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد، بقول اسرائیلی سول انتظامیہ، کنٹرول ہیبرون میونسپلٹی کو واپس دیا جائے گا۔
فلسطینی اور عرب ردعمل:
فلسطینی اتھارٹی نے کہا ہے کہ یہ اقدام "مسجد ابراہیمی پر اسرائیلی حاکمیت مسلط کرنے، اس کو یہودی بنانے، اور اس کی اسلامی شناخت کو مٹانے" کی کوشش ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی اقدام کی "سخت مذمت" کی ہے اور اسے مسجد ابراہیمی کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
امارات نے مزید کہا کہ ایسی "یکطرفہ اور اشتعال انگیز کارروائیاں" کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں اور عالمی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
پس منظر:
مسجد ابراہیمی/مقبرہ آبا یہودیت، اسلام، اور عیسائیت تینوں کے لیے مقدس ہے۔
اس جگہ پر حضرت ابراہیمؑ، سارہؑ، اسحاقؑ، ربیکہؑ، یعقوبؑ اور لیہؑ کے دفن ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔
مسلمانوں کے لیے یہاں مسجد ابراہیمی قائم ہے جبکہ یہودی بھی اس مقام کو مقدس سمجھتے ہیں۔
1994 میں باروخ گولڈسٹین نامی یہودی انتہا پسند کے حملے (جس میں 29 فلسطینی شہید ہوئے تھے) کے بعد سے اس مقام پر سخت سکیورٹی، جدا نماز کے اوقات، اور علیحدہ داخلے کا نظام نافذ ہے۔
سیاسی و علاقائی اہمیت:
یہ اقدام مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
2020 میں بھی اسرائیل نے یہاں معذور زائرین کے لیے لفٹ کی تعمیر کی تھی، جس پر فلسطینیوں نے اعتراض کیا تھا۔
موجودہ تعمیراتی منصوبے کو عبوری قرار دیا گیا ہے، لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے فلسطینی اور کئی ممالک اسے قبضے کو مستقل بنانے کی چال سمجھتے ہیں۔
موجودہ صورتحال:
اسرائیلی وزیر دفاع کے دفتر نے اب تک اس متنازع معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
"ٹومب آف پیٹریارک ایڈمنسٹریشن" کے اہلکار نے کہا ہے کہ روزمرہ انتظام اب مذہبی کونسل کے ہاتھ میں ہے، اور وہ کسی منتقلی کے منصوبے سے واقف نہیں۔