مقبوضہ مغربی کنارہ: مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں اسرائیلی محاصرے اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث تقریباً 80 ہزار فلسطینی طلبہ گزشتہ ہفتے اسکول نہیں جا سکے، جس کے نتیجے میں علاقے کا تعلیمی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
فلسطینی اساتذہ کی جنرل یونین کے مطابق اسرائیلی پابندیوں کے باعث ہیبرون کے مرکزی تعلیمی ضلع میں 220 سرکاری، نجی اور اقوام متحدہ سے منسلک اسکول متاثر ہوئے۔ ان اسکولوں میں زیر تعلیم ہزاروں بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہوئیں، جبکہ اساتذہ کو بھی تدریسی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے اسکولوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اساتذہ یونین کا کہنا ہے کہ محاصرے کے دوران 537 فلسطینی خاندان اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے، جس سے بچوں کی تعلیم پر مزید منفی اثرات مرتب ہوئے۔ متعدد طلبہ اپنی کتابوں اور پڑھائی کی جگہوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکے، جبکہ نقل و حرکت کی پابندیوں نے تعلیمی سرگرمیوں کو مزید محدود کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ علاقے مسافر یطا میں ایک اسکول کے 10 اساتذہ کو بھی کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا۔ اساتذہ کے راستے میں گاڑی روکے جانے کے باعث طلبہ اسکول میں ان کا انتظار کرتے رہے اور تدریسی عمل متاثر ہوا۔فلسطینی اساتذہ کی جنرل یونین نے سڑکوں کی بندش اور اساتذہ و طلبہ کی حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو تعلیم کے بنیادی حق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔