امریکی پاپ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ اور ہالی ووڈ اداکارہ بلیک لائیولی کی دیرینہ دوستی میں دراڑ کی وجوہات اس وقت سامنے آئیں جب دونوں کے درمیان ہونے والے نجی پیغامات منظرِ عام پر آ گئے۔
رپورٹس کے مطابق یہ اختلافات کافی عرصے سے موجود تھے، تاہم عوام کو اس کا علم اب ہوا ہے۔یہ پیغامات بلیک لائیولی اور جسٹن بالڈونی کے درمیان جاری قانونی مقدمے میں سامنے آنے والی دستاویزات کا حصہ ہیں، جن میں دونوں دوستوں کے درمیان ہونے والی مبینہ ٹیکسٹ گفتگو شامل ہے۔ ایک پیغام میں بلیک لائیولی نے ٹیلر سوئفٹ سے خیریت دریافت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ کئی مہینوں سے ذہنی دباؤ اور اداسی کا شکار رہیں اور اس دوران شاید ایک اچھی دوست کا کردار ادا نہ کر سکیں۔ بلیک نے لکھا کہ ٹیلر نے مشکل وقت میں نہ صرف ان کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ انہیں اس حالت میں ہونے پر بھی قبول کیا۔اس کے جواب میں ٹیلر سوئفٹ نے کھل کر اپنے احساسات کا اظہار کیا اور لکھا کہ وہ خود بھی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں شدید تھکن محسوس کر رہی تھیں۔ ٹیلر کے مطابق انہیں یہ احساس ہونے لگا تھا کہ بلیک کا رویہ اور بات کرنے کا انداز بدل گیا ہے، اور وہ اپنی وہ پرانی، خوش مزاج اور بے تکلف دوست کو یاد کرتی ہیں۔ ٹیلر نے واضح کیا کہ بلیک کو معذرت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ بس وہی پرانا تعلق اور قربت واپس آ جائے۔
بعد ازاں بلیک لائیولی نے ٹیلر کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا کہ غلط سمجھے جانے کے خوف نے انہیں باتوں کو حد سے زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ماضی میں قریبی دوستوں کے خاموشی سے دور ہو جانے کے تجربے نے انہیں عدم تحفظ اور خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔ذرائع کے مطابق یہ پیغامات ٹیلر سوئفٹ کے مشہور ایراز ٹور کے اختتام سے چند دن قبل کے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ باہمی دباؤ، غلط فہمیاں اور جذباتی فاصلے اس دوستی کے کمزور پڑنے اور بالآخر خاتمے کا سبب بنے۔ یہ انکشافات مداحوں کے لیے حیران کن ہیں، کیونکہ دونوں کو طویل عرصے تک مثالی دوستی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔