سب انسپکٹر عاصم، اے ایس آئی شہزاد نے 7ماہ قبل اہلکاروں کے ہمراہ چھاپہ مارا تھا،انکوائری میں جرم ثابت
لاہور(کرائم رپورٹر) ہزاروںترقیاں،مرعات اور انعامات کی بھرمار،سخت سزائیں ایک طرف،پولیس اہلکاروں کی روش نہ بدلی ہوئی۔ بتایا گیا ہے فیکٹری ایریا پولیس اہلکاروں کو شہری کے گھر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کے کے خواتین اور مردوں کو تشدد کرنا مہنگا پڑ گیا،سی سی پی او لاہور کے حکم پر دو تھانیداروں سمیت تین نامزد اہلکاروں اور چار سے پانچ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،تھانہ فیکٹری ایریاکے سب انسپکٹر عاصم، اے ایس آئی شہزاد، ہیڈ کانسٹیبلز ذوالفقار ،شہزاد اسماعیل ، کانسٹیبل گل رضااور پانچ نامعلوم اہلکاروں نے رانا محمد عزیز کے گھر سات ماہ قبل چھاپہ مارا، ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکار شہری رانا محمد عمرکے گھر دن دیہاڑے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامل کرتے ہوئے داخل ہوئے،پولیس اہلکاروں نے خواتین اور مردوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر تھانے منتقل کیا ،پولیس اہلکاروں نے خواتین اور مردوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے کپڑے پھاڑ دیے،متاثرہ شہری نے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کیمانہ کو درخواست دی ، سات ماہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ہوا،واضع رہ کہ تھانہ راوی روڈ کے اہلکار کی سوشل میڈیا پر رشوت لینے کی ویڈیو وائر ہونے پر مقدمہ درج ہوا تھا ،سوشل میڈیا پر ایک پولیس اہلکار کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ناکے پر پیسے لیتے دیکھا گیا ، نامعلوم اہلکار کی شناخت عبدالرحمان کے نام سے ہوئی جس کے خلاف مقدمہ درج کرکے حوالات میں بند کر دیا گیا۔