الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کے تحت سیاسی جماعت کو کالعدم کرنیاور فلور کراسنگ کا معاملہ آئینی عدالت میں لے جایا جاسکے گا

قومی اسمبلی ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھنے کا بل منظور
رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی منظوری کے بعد الیکشن ایکٹ کے سیکشن 9 میں ترمیم کرتے ہوئے لفظ ’سپریم‘ کی جگہ ’فیڈرل آئینی عدالت‘ شامل کر دیا گیا ، بیرسٹر گوہر نے مخالفت کی
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کا بل منظور کر لیا، بل کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھے جا سکیں گے ،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا بل کے تحت سیاسی جماعت کو کالعدم کرنا اور فلور کراسنگ کا معاملہ آئینی عدالت میں لے جایا جاسکے گا، چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بل کے تحت آپ الیکشن لاء کے معاملات کو سپریم کورٹ کی بجائے آئینی کورٹ میں لیکرجا رہے ہیں، 18ویں ترمیم پر خواجہ آصف کے بیان پر پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے ایوان میں ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم کو گالی دینیکیلئے گل پلازہ آگ کو بہانہ بنایا،جس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خواجہ آصف کا بیان انکی ذاتی رائے ہے، ہر فیصلہ پارلیمنٹ کی رضا مندی سے ہوتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کہا گل پلازا پر کل بھی بلیم گیم ہوا ، گل پلازا میں جانیں گئیں، کوشش کریں آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں، آپ بلدیاتی حکومت کو بااختیار بنائیں۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جسکے تحت الیکشن ترمیمی ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی منظوری کے بعد الیکشنز ایکٹ کی سیکشن 9 میں ترمیم کرتے ہوئے لفظ ’سپریم‘ کی جگہ ’فیڈرل آئینی عدالت‘ شامل کر دیا گیا ہے۔