وزیراعظم اعتماد کا ووٹ کھو بیٹھے، سسٹم لپیٹ لیں ‘ نئے الیکشن کی طرف جایا جائے بیرسٹر گوہر

وزیراعظم کو فوری اسمبلی اجلاس بلا کر اعتماد کا ووٹ لینا چاہئے تھا ‘ایسے حالات میں نیشنل حکومت کی اشد ضرورت ہے‘ پیپلز پارٹی کو بھی دھاندلی زدہ سمجھتا ہوں 
آج بانی کی رہائی کی تحریک کا آغاز کریں گے،جولوگ اس سسٹم کو سنبھالے ہوتے ہیں ان کی ذمہ داری ہوتی ہے لوگوں کو اکٹھا بٹھا کر مسائل کا حل ڈھونڈیں
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے  وزیراعظم اعتماد کا ووٹ کھو بیٹھے، یہ سسٹم لپیٹ لیں اور الیکشن کی طرف جایا جائے۔اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکہ پر صحافیوں سے گفتتگو میں انہوں نے کہا  ایسے حالات میں نیشنل حکومت کی اشد ضرورت ہے، الیکشن کی طرف جایا جائے یہ سسٹم لپیٹ لیں اس سسٹم میں جس طرح بھی ہوا آپ اعتماد کھو بیٹھے، اس لیے نیشنل حکومت کی ضرورت ضرور ہے، میں کہتا ہوں عوام کے لیے مزید حکومتیں نہ بناؤ، وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا اور ساتھ ہی اہم حکومتی اتحادی نے وزیراعظم کو دھاندلی زدہ قرار دے دیا ایسے میں ہر جمہوریت میں وزیراعظم سب سے پہلے اعتماد ووٹ لیتا ہے وزیراعظم کو فی الفور اسمبلی اجلاس بلا کر اعتماد کا ووٹ لینا چاہئے تھا جس میں وہ ناکام رہے اس لیے حکومت بھی اب نہیں رہی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومتی ڈھانچہ آئینی، قانونی اور اصولی طور پر اور جمہوری، انداز سے کولیپس کرگیا کیونکہ اتحادی نے سوال اٹھایا اور وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکے، عدم اعتما کا ایک طریقہ کار ہے اس کے لیے ایک مخصوص نمبر چاہے اس کے لیے اتحادیوں سے مشورہ کریں گے، پیپلز پارٹی کو بھی دھاندلی زدہ سمجھتا ہوں آپ کا نیشنل انٹرسٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا ہے  قیام پاکستان کے بعد آج تک کوئی پارٹی سربراہ تین سال جیل میں نہیںرہا،5 اگست کو بانی کی رہائی کی تحریک کا آغاز کریں گے،، یہ تحریک اب بانی اور بشری کی رہائی پر رکے گی۔راولپنڈی اسلام آباد سے کم آبادی والے علاقے کشمیر میں پہلے ایک اسٹیج پھر دوسری اسٹیج پر انتخابات کرائے گئے۔آزادکشمیر میں 3 فیز میں الیکشن کرانے کا جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ غیر آئینی ہے۔ جولوگ اس سسٹم کو سنبھالے ہوتے ہیں ان کی زمہ داری ہوتی ہے لوگوں کو اکٹھا بٹھا کر مسائل کا حل ڈھونڈیں،جب آپ اپنے مسائل کا حل نہیں ڈھونڈتے تو وفاق کو خطرہ میں ڈالتے ہیں