ملک میں نئے ڈیم تعمیر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو شدید اور طویل المدتی آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
دریائوں کے بہائو میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال پاکستان کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے، پانی کا تحفظ ہی فوڈ سکیورٹی اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے:وفاقی وزیر
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے، ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے، پانی کا تحفظ ہی فوڈ سکیورٹی اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔۔احسن اقبال کی زیر صدارت ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سکیورٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے بھی شرکت کی، اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی نے وزارت آبی وسائل کے تحت ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کرنے اور 15 دن کے اندر قابلِ عمل سفارشات پلاننگ کمیشن کو پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہندوکش ہمالیہ ریجن میں 2011 سے 2020 کی دہائی کے دوران برف پگھلنے کی شرح میں 65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، سیاچن گلیشیئر سالانہ 50 سے 60 میٹر کی رفتار سے پگھل رہا ہے جبکہ ہمالیہ کے پہاڑوں میں برف پگھلنے کی شرح 30 میٹر سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔وفاقی وزیر نے پانی سے متعلق پالیسیوں کو عملی منصوبوں میں ڈھالنے کے لیے فوری طور پر ٹیکنیکل ورکشاپ بلانے کی ہدایت دی، ماحولیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلائو میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور 1960 سے اب تک گلیشیئرز کی 23 فیصد برف پگھل کر ضائع ہو چکی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو شدید اور طویل المدتی آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، دریائوں کے بہائو میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے جبکہ پانی کا تحفظ ہی فوڈ سکیورٹی اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔