کیس غلط بینچ میں کیوں لگایا؟ ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا بینچ سے کیس واپس لینے سے عدلیہ کی آزادی ختم ہوجائیگی: جسٹس منصور

 ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو  فوری رجسٹرار آفس کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی‘ جوڈیشل آرڈر کے باوجود کیس فکس نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نذر عباس کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے
جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہے تو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے،ہمارا آرڈر بہت واضح تھا کیس کس بینچ میں لگنا   ہے :جسٹس منصور‘ ایک مقدمہ سننے سے اتنی پریشانی کیوں ہو گئی :جسٹس عقیل

اسلام آباد(آئی این پی)گریڈ 21 کے افسر سپریم کورٹ میں تعینات ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو او ایس ڈی بنا دیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن پرویز اقبال کے دستخط سے انہیں او ایس ڈی بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔نوٹیفکیشن رجسٹرار سپریم کورٹ کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا، ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو تاحکم ثانی فوری رجسٹرار آفس کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ جوڈیشل آرڈر کے باوجود کیس فکس نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نذر عباس کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے۔دریں اثنائسپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے  ریمارکس دئیے ہیں کہ جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہے اور کمیٹی  وہ کیس ہی بینچ سے واپس لے؟کمیٹی کے عدالتی بینچ سے کیس واپس لینے سے تو عدلیہ کی آزادی کا  خاتمہ ہوجائے گا جبکہ جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ   ایک مقدمہ سننے سے اتنی پریشانی کیوں ہو گئی کہ بنچ سے کیس ہی منتقل کر دیا گیا۔سپریم کورٹ میں بینچزکے اختیارات کا کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی  ۔جسٹس عقیل عباسی بنچ کا حصہ ہیں، رجسٹرار سپریم کورٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت  کے آغاز پر  عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود کیس مقرر کیوں نہ ہوا؟ جس پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے جواب دیا کہ یہ کیس آئینی بنچ کا تھا غلطی سے ریگولربنچ میں لگ گیا تھا۔جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس میں کہا کہ اگر یہ غلطی تھی تو عرصے سے جاری تھی اب ادراک کیسے ہوا؟ معذرت کیساتھ غلطی صرف اس بنچ میں مجھے شامل کرنا تھی، میں اس کیس کو ہائیکورٹ میں سن چکا تھا، پتہ نہیں مجھے اس بنچ میں شامل کرنا غلطی تھی یا کیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اس معاملے پر اجلاس کیسے ہوا؟ کیا کمیٹی نے خود اجلاس بلایا یا آپ نے درخواست کی؟ جس پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے جواب دیا کہ ہم نے کمیٹی کو نوٹ لکھا تھا، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ جب جوڈیشل آرڈر موجود تھا تو نوٹ کیوں لکھا گیا؟ ہمارا آرڈر بہت واضح تھا کہ کیس کس بنچ میں لگنا ہے، ہمیں وہ نوٹ دکھائیں جو آپ نے کمیٹی کو بھیجا۔رجسٹرار نے کمیٹی کو بھیجا گیا نوٹ پیش کردیا ،رجسٹرار آفس کا نوٹ رجسٹرار کے مقف سے متضاد نکلا ۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس میں کہا کہ اس نوٹ میں غلطی کا ادراک تو نہیں کیا گیا، اس میں آپ لکھ رہے ہیں 16 جنوری کو ایک آرڈر جاری ہوا ہے، آپ اس آرڈر کی بنیاد پر نیا بنچ بنانے کا کہہ رہے ہیں، آرڈر میں تو ہم نے بتایا تھا کیس کس بنچ میں لگنا ہے۔رجسٹرار نے جواب دیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کیس آئینی بنچ کی کمیٹی کو بھجوایا، آئینی بنچز کی کمیٹی نے آئینی ترمیم سے متعلقہ مقدمات 27 جنوری کو مقرر کیے، ترمیم کے بعد جائزہ لیا تھا کہ کونسے مقدمات بنچ میں مقرر ہو سکتے ہیں کونسے نہیں۔؟ عدالت کے ریمارکسجسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیس شاید آپ سے غلطی سے رہ گیا لیکن بنچ میں آ گیا تو کمیٹی کا کام ختم ہو گیا، کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ہو گئی، جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہے تو کیس ہی بنچ سے واپس لے لیا جائے؟ یہ کیس آپ سے رہ گیا اور ہمارے سامنے آ گیا، آخر اللہ تعالی نے بھی کوئی منصوبہ ڈیزائن کیا ہی ہوتا ہے