بجٹ کمیٹی کو پارٹی سربراہ سے ملاقات کی فوری ضرورت ہے تاکہ اہم فیصلے کئے جا سکیں:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکا روسٹرم پر آ کر موقف‘ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا: جسٹس منصور
آئندہ مالی کے بجٹ سے متعلق بانی پی ٹی آئی کا وژن کیا ہے سب کو معلوم ہے، جتنے صوبائی بجٹ پیش ہوئے ہیں، ان سب سے بہترین بجٹ ہمارے صوبے کا ہے:علی امین کی میڈیا سے گفتگو
اسلا م آباد(یواین پی‘آئی این پی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کی سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ سے عمران خان سے ملاقات کرانے کی استدعا، جسٹس منصور علی شاہ نے علی امین گنڈاپور کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے غلط دروازہ کھٹکھٹایا، جوڈیشل سائیڈ پرہم کچھ نہیں کرسکتے، چیف جسٹس یا رجسٹرار سے رجوع کریں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہ اپنے وکیل لطیف کھوسہ اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا ہ شاہ فیصل کے ہمراہ جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوئے۔لطیف کھوسہ نے کہا ایک ارجنٹ مسئلہ درپیش ہے۔ خیبرپختونخوا ہ اسمبلی کا بجٹ سیشن چل رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست ارجنٹ سنی جائے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کیس سننے سے معذرت کر لی۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے خودروسٹرم پر آ کر مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اس وقت بجٹ منظوری کا عمل جاری ہے اور ہماری بجٹ کمیٹی کو پارٹی سربراہ سے ملاقات کی فوری ضرورت ہے تاکہ اہم فیصلے کئے جا سکیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ جوڈیشل سائیڈ پر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی یا رجسٹرار سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔ یہی بہتر طریقہ ہے اس سے آپ کا وقت بچے گا‘بعد ازاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا آئندہ مالی کے بجٹ سے متعلق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا وژن کیا ہے سب کو معلوم ہے، جتنے صوبائی بجٹ پیش ہوئے ہیں، ان سب سے بہترین بجٹ ہمارے صوبے کا ہے۔ انہوں نے کہا وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر عدالت آئے ہیں اور کئی دنوں سے ان سے ملاقات کی کوششیں جاری تھیں، لیکن ایک منظم سازش کے تحت انہیں روکا جا رہا ہے۔