کراچی: پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبد السمیع خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا تو وہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
کراچی میں ملک خدا بخش اور دیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبد السمیع خان نے کہا کہ حکومت ڈی ریگولیشن کے نام پر پٹرولیم انڈسٹری کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر پٹرولیم کو اس صنعت کی نزاکتوں کا اندازہ نہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ قابل افراد کو آگے لائے تاکہ صحیح فیصلے کیے جا سکیں۔
ڈی ریگولیشن کے ممکنہ نقصانات
عبدالسّمیع خان کا کہنا تھا کہ حکومت گزشتہ تین سال سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن ہم نے ہر بار اس فیصلے کی مزاحمت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم نے اس کے خلاف ہڑتال کی تو ہمیں دھمکیاں بھی دی گئیں، تاہم بعد میں حکومت نے مذاکرات میں ہمیں یقین دہانی کرائی کہ ہمارے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ڈی ریگولیشن نافذ کی گئی تو ملک میں اسمگل شدہ تیل کی آمد میں اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف مقامی صنعت کو نقصان پہنچے گا بلکہ گاڑیوں کے انجن بھی خراب ہونے لگیں گے کیونکہ اسمگل شدہ تیل ریفائنڈ نہیں ہوتا۔
یورپ اور امریکا کی مثالیں غیر موزوں
پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت اکثر ڈی ریگولیشن کے حق میں یورپ اور امریکا کی مثال دیتی ہے، لیکن وہاں کے کاروباری ماڈلز اور معاشی حالات پاکستان سے بالکل مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وزیر پٹرولیم کو خط بھیجا گیا ہے جس میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، اور ہم واضح طور پر چاہتے ہیں کہ ڈی ریگولیشن نہ ہو۔
اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
عبد السمیع خان نے مزید کہا کہ انہوں نے پٹرولیم اسمگلنگ روکنے کے لیے آئی جی سندھ، رینجرز، پولیس اور کسٹم حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری بات نہ سنی گئی تو ہم عدالت سے بھی رجوع کریں گے اور عوامی سطح پر احتجاج کا راستہ بھی اختیار کریں گے۔پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے ورنہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند ہونے کا خدشہ ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔