جیا بچن کا حجابی خواتین کے حق میں پارلیمنٹ میں دبنگ بیان

جیا بچن کا حجابی خواتین کے حق میں پارلیمنٹ میں دبنگ بیان

بالی ووڈ سپر اسٹار امیتابھ بچن کی اہلیہ اور بھارتی سیاستدان جیا بچن نے حجابی خواتین کے دفاع میں راجیہ سبھا میں آواز بلند کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق:
جیا بچن، جو سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں اور راجیہ سبھا کی رکن ہیں، نے اتر پردیش ضمنی انتخابات اور دہلی اسمبلی انتخابات میں خواتین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر سخت اعتراض کیا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ انتخابات کے دوران حجاب اور برقع پہننے والی خواتین کو شناخت کے نام پر ہراساں کیا گیا، ان کے برقعے زبردستی ہٹائے گئے، جبکہ غیر حجابی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا۔جیا بچن نے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران کہا کہ یہ خواتین کی رازداری اور وقار کے خلاف ہے اور بھارتی حکومت کو اس تفریق پر فوری کارروائی کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا، "خواتین کی موجودگی کوئی اگر، مگر یا شاید نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ ہمیں مشہور ہونے کا شوق نہیں، لیکن ہمیں تسلیم کیا جانا چاہیے۔"جیا بچن نے اپنی زندگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ تین بہنوں میں سب سے بڑی ہیں، ان کی پہلی اولاد ایک بیٹی ہے، اور ان کی پہلی نواسی اور پوتی بھی لڑکیاں ہیں، جس پر انہیں فخر ہے کہ خواتین معاشرے میں اپنا کردار مضبوط کر رہی ہیں۔
خواتین کے حقوق کے حوالے سے جیا بچن کا مؤقف
جیا بچن کا یہ بیان بھارت میں مسلم خواتین کے حجاب کے حق میں ایک اہم سیاسی مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت میں حجاب پر پابندی اور امتیازی سلوک کے معاملات کئی بار خبروں میں آ چکے ہیں۔ان کے اس بیان کو سماجی حلقوں میں زبردست پذیرائی ملی ہے، جبکہ کئی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ آئندہ انتخابات میں بھی اہم بحث کا حصہ بن سکتا ہے۔