بھارتی سرکاری سرپرستی میں شیوسینا اور آر ایس ایس کے ہندو شدت پسندوں نے نئی دہلی میں واقع بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن آفس پر حملہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق، انتہا پسندوں نے اکھنڈ بھارت راشٹرا سینا کے بینرز اٹھائے اور رکاوٹیں توڑ کر بنگلہ دیش ہاؤس میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے ہائی کمشنر ریاض حمید اللہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔اس واقعہ کے بعد بنگلہ دیش میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، اور چٹاگانگ میں نوجوان بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجاً پتھراؤ کرنے لگے۔ بھارتی حکام نے تاہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ سیکیورٹی خلاف ورزی نہیں تھا اور مظاہرین کو پولیس نے فوراً منتشر کر دیا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ مظاہرین نے باڑ پھلانگنے یا کسی بھی سیکیورٹی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش نہیں کی، اور واقعے کی ویڈیوز بھی دستیاب ہیں جو ان دعوؤں کی تصدیق کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ہفتے کو تقریباً 20 سے 25 نوجوان بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے سامنے جمع ہوئے اور بھارت میں ہندو شخص دیپو چندر داس کے قتل کے خلاف نعرے بازی کی۔ بنگلہ دیشی حکام نے اس واقعہ پر غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جس کے تحت عمارت کے اطراف مسلح سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ بھارتی حکام نے ان حملوں کی رپورٹس کو گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مکمل طور پر غلط اور من گھڑت ہے۔