برطانوی جج نے پاکستانی نوجوان عبداللہ تنولی کی بہادری کو سراہتے ہوئے 11 سالہ بچی کی جان بچانے پر ایک نقد انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ واقعہ گزشتہ سال اگست میں پیش آیا، جب عبداللہ نے ایک مسلح حملہ آور کے چاقو سے ماں اور بچی کو بچایا تھا۔رپورٹ کے مطابق، جج نے عبداللہ تنولی کو ایک ہزار پاؤنڈ کا انعام عوامی فنڈز سے دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ، جج نے ہدایت دی ہے کہ حملہ آور، پون پنٹارو، کو ہائی سکیورٹی مینٹل ہاسپٹل منتقل کیا جائے تاکہ اس کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عبداللہ لیسٹر اسکوائر میں ایک دکان پر ایک سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کر رہے تھے۔
انہوں نے 11 سالہ بچی کی چیخ و پکار سن کر فوراً مدد کے لیے پہنچے اور حملہ آور سے بچی کو بچا لیا۔ انہوں نے پولیس کے آنے تک بچی کو دیگر گارڈز کے ساتھ قابو میں رکھا۔اس واقعہ کے بعد عبداللہ تنولی برطانیہ میں ایک ہیرو کے طور پر جانے گئے ہیں۔ انہیں متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، اور اب وہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثال بن چکے ہیں۔ ان کی یہ بہادری لوگوں کے لیے ایک متاثر کن اور حوصلہ افزا مثال ہے۔