امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بین الاقوامی سفارتی کامیابیوں، خصوصاً پاک بھارت اور ایران اسرائیل تنازعات کو ٹالنے میں کردار ادا کرنے پر 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کر دیا گیا ہے۔
ریپبلکن رکن کانگریس بڈی کارٹر کی سفارش
امریکی میڈیا کے مطابق:ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکنِ کانگریس بڈی کارٹر نے نوبیل کمیٹی کو باقاعدہ خط لکھ کر صدر ٹرمپ کی نامزدگی کی سفارش کی ہے۔خط میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کی سفارتی مداخلت نے دنیا کو ممکنہ جنگوں سے بچایا، جس پر انہیں نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔
پاک بھارت کشیدگی پر امریکی کردار
پاکستانی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ:حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران، صدر ٹرمپ کی سفارتی مداخلت سے دونوں ممالک کھلی جنگ کے دہانے پر پہنچنے سے بچ گئے۔حکومتِ پاکستان نے بیان میں کہا:"ٹرمپ انتظامیہ نے کشیدگی کم کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس پر عالمی سطح پر ان کے کردار کو سراہا گیا۔"
ایران اسرائیل جنگ بندی میں بھی مداخلت
امریکی ذرائع کے مطابق:ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں صدر ٹرمپ کی ثالثی سے فوری جنگ بندی ممکن ہوئی۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے پیچھے "پریشر بیک ڈپلومیسی" کا ماڈل استعمال کیا گیا، جس کا محور ٹرمپ کا ذاتی سفارتی دباؤ تھا۔
صدر ٹرمپ کا ردِعمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نامزدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:"میں پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ اگر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوا دوں، تو مجھے نوبل انعام ضرور ملنا چاہیے۔ اب دنیا نے میری بات پر مہر لگا دی۔"
نوبیل انعام کے اصول
واضح رہے کہ:نوبل امن انعام ہر سال اس شخصیت یا ادارے کو دیا جاتا ہے جو بین الاقوامی امن، انسانی فلاح اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے نمایاں خدمات انجام دے۔نامزدگی کی سفارشات دنیا بھر سے منتخب حکومتی، علمی اور سماجی شخصیات کی جانب سے بھیجی جاتی ہیں، جنہیں نوبیل کمیٹی زیر غور لاتی ہے۔