اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے یوٹیلٹی اسٹورز کی تحلیل اور خصوصی اقتصادی زونز قانون 2012 میں ترمیم کی منظوری دے دی
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے خصوصی دعا کی۔ وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور ریسکیو و ریلیف کے اقدامات کی نگرانی کرنے والے کابینہ ارکان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر یوریا کی قیمتوں میں توازن کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کسانوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے پیداواری لاگت کم کرنا ہوگی اور اس مقصد کے لیے وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی اور معاون خصوصی صنعت ہارون اختر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے پیش کی گئی یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی تحلیل کی سمری متفقہ طور پر منظور کر لی۔ بتایا گیا کہ 31 جولائی سے ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز کا آپریشن ختم کر دیا گیا ہے اور تحلیل کے دوران ملازمین کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے اس عمل کو شفاف طریقے سے مکمل کرنے اور قانونی ضوابط کے مطابق ملازمین کے حقوق کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
کابینہ نے ملکی صنعتی ترقی اور نئی صنعتوں کے قیام کے لیے خصوصی اقتصادی زونز قانون 2012 میں ترمیم کی اصولی منظوری بھی دی، جس کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کو مزید کاروبار و سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کیا جائے گا، جس سے صنعتوں کی تعمیر کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ صنعتی ترقی ملکی معیشت کو مستحکم اور برآمدات و روزگار میں اضافہ کا سبب بنے گی۔
مزید برآں، وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر قومی اقتصادی کونسل کی مالی سال 2023-24 کی سالانہ رپورٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کیسز (CCLC) کے حالیہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔