ویب ڈیسک: وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن میں بحران شدت اختیار کرگیا، 3 ہزار سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ متعدد اسٹورز کو نقصان کے باعث بند کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملازمین کو برخاست کرنے کے احکامات چھٹی والے دن جاری کیے گئے، جس سے متاثرہ ورکرز کو شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان ملازمین میں اکثریت ان افراد کی ہے جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے ڈیلی ویجز یا کنٹریکٹ بنیادوں پر کارپوریشن میں خدمات انجام دے رہے تھے۔اس سے قبل فروری 2025 میں بھی 3 ہزار کے قریب ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا، جب کہ اب مزید ہزاروں کی برطرفی نے ادارے کی اندرونی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، کارپوریشن کو جاری مالی نقصان اور بڑھتے اخراجات کے باعث متعدد یوٹیلٹی اسٹورز کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 22 جنوری کو وفاقی کابینہ نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے آپریشنز ختم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کے بعد سے ادارے کی سرگرمیوں میں بتدریج کمی دیکھی جارہی ہے۔متاثرہ ملازمین اور لیبر تنظیموں نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غریب طبقے کے لیے روزگار کے مواقع چھیننے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کی نجکاری اور بندش سے پہلے ملازمین کے روزگار کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے تھا۔