وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے، جبکہ بھارت اسے مسلسل داخلی معاملہ قرار دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اندرونی معاملات کو بیرونی اور بیرونی معاملات کو اندرونی رنگ دے کر دنیا کو گمراہ کر رہا ہے، تاہم اب اس کی “مکاری” کھل کر سامنے آ چکی ہے۔عطا تارڑ کے مطابق آج پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، لیکن بھارت اس واقعے پر اب تک کوئی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض 10 منٹ کے اندر ایف آئی آر کا اندراج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ متن پہلے سے تیار تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی میڈیا، بھارتی سول سوسائٹی، سیاستدانوں اور تھنک ٹینکس نے بھی اس واقعے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں، جو اس معاملے کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں۔
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ بھارت میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہندوتوا نظریے کے تحت اقلیتوں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف ممالک میں سکھ رہنماؤں کے قتل کے شواہد بھارتی ریاست کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ جعفر ایکسپریس اور خضدار سمیت دہشت گردی کے دیگر واقعات میں بھی بھارت کے کردار کے “ناقابلِ تردید شواہد” موجود ہیں، جنہیں وقتاً فوقتاً بین الاقوامی برادری اور عالمی میڈیا کے ساتھ شیئر کیا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو ماضی میں بھی معرکہ حق کے دوران “آپریشن بنیان مرصوص” میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اور اب اسے دہشت گردی کی پالیسی میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔