پی ٹی سی کے 50 بس شیلٹرز میں سے 36 مکمل الاٹ نہ ہو سکے
متعدد مقامات پر تعمیر مکمل ہونے کے باوجود کیوسکس بند
لاہور (کرائم رپورٹر)پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کا 50 بس شیلٹرز پر مشتمل پائلٹ منصوبہ سوالات کی زد میں آ گیا۔خواتین کو روزگار دینے کیلئے بنائے گئے کمرشل کیوسکس کی اکثریت تاحال بند ، الاٹمنٹ کے عمل میں شفافیت اور واضح پالیسی کا فقدان سامنے آیا ہے۔ویمن امپاورمنٹ کے دعو ئوں کے برعکس منصوبہ انتظامی کمزوریوں کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ذرائع کے مطابق شہر میں جدید ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے ساتھ خواتین کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے دعوے کے تحت شروع کیا گیا پائلٹ منصوبہ اب انتظامی بے ضابطگیوں کی مثال بنتا جا رہا ہے۔ پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی نے 50 بس شیلٹرز تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھاجن میں کمرشل کیوسکس خواتین کیلئے مختص کیے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق 50 میں سے 36 بس شیلٹرز مکمل ہو چکے ہیں تاہم ان میں سے 28 کیوسکس تاحال الاٹ نہیں کیے جا سکے۔ متعدد مقامات پر تعمیر مکمل ہونے کے باوجود کیوسکس بند پڑے ہیں جس سے خواتین کو روزگار فراہمی کا بنیادی مقصد پورا نہ ہو سکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 6 سے 8 کیوسکس کی الاٹمنٹ بغیر قرعہ اندازی اور بغیر باقاعدہ درخواستوں کے کی گئی۔ اوپن کمپٹیشن نہ ہونے پر من پسند افراد کو ترجیح دینے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ کرایہ پالیسی اور مالیاتی فریم ورک ابتک طے نہیں کیا جا سکاجس سے سرکاری اثاثوں کے استعمال پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔یہ بس شیلٹرز کینال روڈ، مولانا شوکت علی روڈ، جیل روڈ اور رائیونڈ روڈ سمیت اْن کوریڈورز پر تعمیر کیے گئے جہاں الیکٹرک بس انفراسٹرکچر موجود ہے۔ لبرٹی مارکیٹ جیسے اہم تجارتی مرکز میں بھی کیوسکس قائم کیے گئیتاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ صرف 3 مقامات پر خواتین برسرِ روزگار ہیں جن میں جناح ہسپتال کے باہر، لبرٹی اور کینال روڈ شامل ہیں۔ باقی اکثریتی کیوسکس غیر فعال ہیں جس سے ویمن امپاورمنٹ کا ہدف ادھورا دکھائی دیتا ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ اور پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی مانیٹرنگ اور کو آرڈینیشن پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شفاف الاٹمنٹ، واضح کرایہ پالیسی اور م ئوثر نگرانی کے بغیر یہ پائلٹ پروجیکٹ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے