کراچی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے کشتی سازی کی صنعت مشکل میں پڑ گئی

کراچی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے کشتی سازی کی صنعت مشکل میں پڑ گئی

ایندھن کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے سبب شہر کے ساحلی علاقوں، خاص طور پر ابراہیم حیدری، میں کشتی سازی کی صنعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔

اس کے نتیجے میں کشتیوں، خاص طور پر ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی لانچوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ 
لانچوں کی تیاری میں ہونے والے اضافی اخراجات:

عام لانچ کی قیمت پہلے 5 لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر 7 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔
درمیانی لانچ کی قیمت میں بھی 2 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ، کشتی سازی میں استعمال ہونے والی مہنگی قسم کی لکڑیاں جیسے شیشم، برماٹیک، دیار، پرتلا، اور افریقہ سے درآمد شدہ لکڑیاں استعمال کی جاتی ہیں، جن کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔پاکستان کی مقامی کشتی سازی صنعت، جو متحدہ عرب امارات اور ایران سمیت دیگر ممالک میں بھی مقبول ہے، ابراہیم حیدری میں خاص طور پر پرانی اور نئی لانچوں کی مرمت اور تیار سازی کا مرکز ہے۔ یہاں کاریگر مختلف قسم کی رنگائی، نقوش اور نگارکاری سے کشتیوں کو خوبصورت بناتے ہیں، لیکن مہنگائی نے اس صنعت کو بھی متاثر کیا ہے۔
مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے کشتی سازی کی لاگت میں خاصی اضافہ ہوا ہے:

پہلے 5 لاکھ میں تیار ہونے والی کشتی اب 7 لاکھ روپے کی لاگت سے بنتی ہے۔بڑی لانچوں کی قیمت میں بھی 2 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس سے ان کی مجموعی قیمت 9 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔

کراچی کے فش ہاربر اور دیگر ساحلی مقامات پر چھوٹے اور بڑے ماہی گیری لانچیں بنائی جاتی ہیں:

سب سے چھوٹی لانچ، جسے 'ٹکڑی' کہا جاتا ہے، میں صرف 2 ماہی گیر سوار ہوتے ہیں۔بڑی لانچیں 10 سے 12 فٹ لمبی ہوتی ہیں، جن میں 8 ماہی گیر سوار ہوتے ہیں۔اور ایک لانچ 'ہوڑی' کہلاتی ہے، جو 16 سے 24 فٹ لمبی ہوتی ہے۔سب سے بڑی لانچیں، جیسے 'رچ' اور 'گوجا'، 100 سے 150 فٹ لمبی ہوتی ہیں، جن میں متعدد ماہی گیر سوار ہوتے ہیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے سبب کشتی سازی کی صنعت کو شدید دھچکا لگا ہے اور ماہی گیروں کے لیے نئی کشتی کی خریداری مشکل ہو گئی ہے، جس سے سمندری ماہی گیری کا عمل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔