ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اگر صنعت و زراعت کے شعبے ترقی کریں گے تو ملک کو قرضوں سے نجات ملے گی۔
انہوں نے یہ باتیں ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی جس میں صنعتوں اور کسانوں کے ماہرین و کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس ملاقات کے دوران وزیراعظم نے صنعتوں اور کسانوں کے لیے رعایتی بجلی کے پیکج کا اعلان بھی کیا۔وزیراعظم نے بتایا کہ یہ پیکج آئندہ تین سالوں کے لیے، یعنی نومبر 2025 سے اکتوبر 2028 تک، صنعتوں اور کسانوں کو رعایتی قیمت پر اضافی بجلی فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللّٰہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے سبب معاشی اشارے بہتر ہوئے ہیں، لیکن ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحران کے باوجود محنت اور تعاون سے معاشی استحکام ممکن ہوا، جس کے نتیجے میں صنعتیں چلی، برآمدات میں اضافہ ہوا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ موسم سرما میں دی جانے والی پیکج کے تحت صنعتی و زرعی شعبوں نے 410 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی ترقی اور روزگار کے لیے صنعت اور زراعت کی ترقی بہت اہم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی صنعتوں اور زرعی شعبے کو خطے میں مزید مسابقت بخشنے اور کاروباری سہولیات بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔