ویب ڈیسک:امریکا نے چین کی شپنگ انڈسٹری پر دباؤ ڈالنے اور اپنی جہاز سازی کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے چینی ساختہ اور چینی کمپنیوں کے بحری جہازوں پر نئی بندرگاہ فیسوں (Port Fees) کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا:"بحری جہازوں کی نقل و حمل، امریکی اقتصادی سلامتی اور آزادانہ تجارتی بہاؤ کے لیے نہایت اہم ہے۔"
فیسوں کی تفصیلات:
چینی کمپنیوں سے منسلک ہر بحری جہاز پر فی ٹن فیس لاگو کی جائے گی، جو سال میں پانچ بار امریکی بندرگاہوں پر وصول کی جائے گی۔یہ فیسیں ہر بندرگاہ پر لاگو نہیں ہوں گی، اور چینی ساختہ بحری جہازوں اور چینی کمپنیوں کے زیرِ ملکیت جہازوں پر الگ الگ عائد کی جائیں گی۔آنے والے سالوں میں ان فیسوں میں تدریجی اضافہ کیا جائے گا۔تمام غیر امریکی ساختہ کار کیریئر ویسلز (Car Carrier Vessels) پر بھی 180 دنوں میں نئی فیسیں لاگو ہوں گی۔
ایل این جی جہازوں کے لیے خصوصی فیس:
مائع قدرتی گیس (LNG) لے جانے والے بحری جہازوں پر بھی فیس متعارف کرائی گئی ہے، تاہم ان کا اطلاق تین سال بعد ہوگا۔
رعایت یافتہ شپنگ:
حکومت کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ کے مطابق:گریٹ لیکس (Great Lakes) یا کیریبین شپنگ سے وابستہ بحری جہاز،امریکی علاقوں میں/سے شپنگ کرنے والے جہاز،
اور وہ جہاز جو امریکا خالی پہنچتے ہیں اور برآمدات لے جاتے ہیں، ان پر یہ فیسیں لاگو نہیں ہوں گی۔