عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور شپنگ اخراجات بڑھنے کے بعد بنگلہ دیش حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔
نئی قیمتیں پیر سے نافذ کردی گئی ہیں، جس کے بعد ڈیزل، پٹرول، اوکٹین اور مٹی کے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ حکومت کے اس اقدام سے پہلے ہی توانائی بحران اور بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کا سامنا کرنے والے عوام اور کاروباری شعبے پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔رائٹرز کے مطابق بنگلہ دیش حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں مارچ 2026 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مال برداری اور شپنگ کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان عوامل کے باعث درآمدی ایندھن کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری نئی قیمتوں کے مطابق ڈیزل کی قیمت 115 ٹکا سے بڑھا کر 135 ٹکا فی لیٹر کردی گئی ہے، جو تقریباً 17.4 فیصد اضافہ ہے۔ اسی طرح اوکٹین 145 سے بڑھ کر 165 ٹکا، پٹرول 140 سے 160 ٹکا جبکہ مٹی کا تیل 135 سے بڑھا کر 155 ٹکا فی لیٹر کردیا گیا ہے۔حکام کے مطابق رواں سال اپریل اور جون میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید اضافے اور درآمدی اخراجات بڑھنے کے باعث حکومت کو ایک مرتبہ پھر نرخ بڑھانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔وزارتِ توانائی کے مطابق سرکاری ادارے بنگلہ دیش پٹرولیم کارپوریشن (BPC) کو مارچ سے اگست کے دوران 228.76 ارب ٹکا، یعنی تقریباً 1.9 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
حکومت کا اندازہ ہے کہ تازہ قیمتوں میں اضافے سے ادارے کے سالانہ نقصان میں تقریباً 100 ارب ٹکا تک کمی لائی جاسکتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ایک مقصد زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنا اور درآمدی ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت کو قابو میں لانا بھی ہے۔ حکومت کے مطابق زیادہ قیمت والے پڑوسی ممالک کو ایندھن کی غیر قانونی اسمگلنگ روکنے میں بھی نئے نرخ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔تاہم ایندھن مہنگا ہونے سے بنگلہ دیش کی معیشت کے مختلف شعبوں پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، صنعتی پیداوار اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات میں اضافے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔بنگلہ دیش کا اہم گارمنٹس برآمدی شعبہ بھی پہلے ہی بجلی اور گیس کی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں ایندھن کی قیمتوں میں تازہ اضافہ پیداواری لاگت بڑھا سکتا ہے اور کاروباری اداروں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔