جنگ بندی میں توسیع؟مذاکرات لٹک گئے معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کردینگے ڈونلڈ ٹرمپ
ایران کا معاملہ ڈیل کیساتھ ختم ہو جائے گا‘ ہماری افواج پوری طرح تیار ہیں‘ گن لوڈڈ ہیں، حکم ملتے ہی حملہ کردیں گی‘ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا :ٹرمپ کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو
امریکہ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں وہ حد سے بڑھ کر مطالبات ترک اور ایرانی عوام کے حقوق کا مکمل احترام کرے: نائب وزیرخارجہ ‘تیل کی آزاد مارکیٹ یا تو سب کیلئے ہوگی یا کسی کیلئے نہیں، ایرانی نائب صدر
واشنگٹن‘ تہران (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بڑے معاہدے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے دونوں ممالک بالآخر ایک عظیم ڈیل تک پہنچ جائیں گے۔امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے، میرے خیال میں ہم ایک بہترین معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔ امریکا نے ایران کی قیادت اور ان کی فوجی صلاحیت کو ختم کردیا ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے صورتحال ایک طرح سے پیچیدہ ضرور ہوئی لیکن ایران کی نئی قیادت زیادہ معقول ہو سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ عمل دراصل رجیم چینج کے مترادف ہے چاہے اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے حالانکہ رجیم چینج صدر ٹرمپ کے ابتدائی وعدوں میں شامل نہیں تھا۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدھ کو ختم ہونے والی سیز فائر میں توسیع نہیں کرنا چاہتے۔ امریکہ کے صدر نے دھمکی دی کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو امریکی فوج دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں۔ ہم نے اس وقفے (2 ہفتوں کی جنگ بندی) کو اپنی تیاری بڑھانے کے لیے استعمال کیا اور ممکن ہے ایران نے بھی کچھ حد تک ایسا کیا ہو۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہماری فوج پوری طرح تیار، متحرک اور بے تاب ہے کہ حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردے۔ گن لوڈڈ ہیں۔تاہم انھوں نے ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ایک عظیم ڈیل پر ہوگا۔دریں اثناء یران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے ایران کے امریکا پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے۔امریکا ایران سے "سرینڈر" چاہتا ہے جب کہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کسی صورت قبول نہیں۔سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے صدرٹرمپ خود فریبی کا شکار ہیں ‘ایران کے نائب وزیرخارجہ سعید خطیب زادے نے انٹرویو میں کہا کہ امریکا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ حد سے بڑھ کر کیے جانے والے مطالبات ترک کرے اور ایرانی عوام کے حقوق کا مکمل احترام کرے‘ ایرانی فوج کی مشترکہ کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے سربراہ جنرل عبداللہی نے کہا ہیکہ ایران مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لئے تیارہے۔ غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق ایک بیان میں جنرل عبداللہی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مضبوط ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زمینی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کافوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ایرانی نائب صدر رضا عارف نے کہا ہے کہ تیل کی آزاد مارکیٹ یا تو سب کیلئے ہوگی یا کسی کیلئے نہیں۔اپنے ایک پیغام میں ایرانی نائب صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی مفت دستیاب نہیں ہے، ایرانی تیل ایکسپورٹ روکتے ہوئے دوسروں کے لیے سکیورٹی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔