مانسہرہ، ناران، جھالکنڈ اور چلاس کی موٹروے کو چین کی سرحد سے منسلک کرنا چاہتے ہیں، عبدالعلیم خان
اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی حکومت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے موٹرویز سمیت مختلف ترقیاتی منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے پر غور شروع کردیا،پہلے مرحلے میں این ایچ اے اور نجکاری کمیشن نے چار منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لانے پر اتفاق کیا ہے۔وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت مشیر وزیراعظم برائے نجکاری محمد علی کے ہمراہ اجلاس ہوا،جس میں موٹروے ایم 10 کے 169 کلومیٹر طویل سیکٹرکو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنیکی تجویز پیش کی گئی۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ مانسہرہ، ناران،جھالکنڈ اور چلاس کی موٹروے کو چین کی سرحد سے منسلک کرنا چاہتے ہیں،سکھ برادری کے لیے اہم گورونانک ایکسپریس وے بھی اسی ماڈل کے تحت تعمیر کی جاسکتی ہے،اس منصوبے سے سکھوں کی مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا۔وفاقی وزیرمواصلات نے کہا کہ این ایچ اے کے ریونیو میں نمایاں اضافہ حوصلہ افزا ہے اور ادارہ مالی خودمختاری کی جانب گامزن ہے۔ خواہش ہے کہ این ایچ اے کو 500 سے ایک ہزار ارب روپے کا ادارہ بنایا جائے تاکہ حکومتی ترقیاتی پروگرام اور فنڈز پر انحصار کم ہوسکے۔ اجلاس میں سیالکوٹ،کھاریاں موٹروے ایم 12 اورمری ایکسپریس وے کوکشمیر تک توسیع دینے سمیت دیگرمنصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی،عبدالعلیم خان نے این ایچ اے حکام کو باقاعدہ بزنس پلان تیار کرنے کی ہدایت کی۔ مشیر وزیراعظم برائے نجکاری محمد علی نے منصوبوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، این ایچ اے اور نجکاری کمیشن نے ابتدائی کام فوری مکمل کرکیایک ہفتے بعد دوبارہ اجلاس کرنے پر اتفاق کیا۔