میرا ہیرو: ٹرمپ

 محمد تسنیم رضا
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ کے آغاز سے قبل، جب امریکی نائب صدر نے یہ کہا کہ "اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے"، تو درحقیقت یہ وہ ہلہ شیری تھی جس نے بھارت کو یہ تاثر دیا کہ وہ بلا جھجک پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔ مگر اس ہلہ شیری کا جو نتیجہ نکلا، وہ بھارت کے لیے شاید کبھی متوقع نہ تھا۔
بھارت کی جارحیت نے درحقیقت پاکستان کے وقار کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، اور دنیا بھر میں اسے وہ پذیرائی ملی جو شاید برسوں کی سفارتی کوششوں سے بھی ممکن نہ تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دشمنوں نے مانا اور دوستوں نے فخر کیا کہ پاکستان صرف ایک ایٹمی طاقت نہیں بلکہ ایک قوم بھی ہے، جو اپنی سرزمین، وقار اور نظریے کی حفاظت کے لیے ہر حد پار کر سکتی ہے۔ سفارت کاری سے لے کر دفاعی میدان تک، پاکستان نے یہ واضح کر دیا کہ وہ صرف بیانات پر نہیں بلکہ عمل پر یقین رکھتا ہے۔
انڈیا نے امریکی آشیر باد پر حملہ ضرور کیا، لیکن پاکستان نے اپنی بہادری، بردباری، حوصلے اور حکمتِ عملی سے دشمن کو چکرا کر رکھ دیا، اور میدانِ جنگ میں غیر متوقع برتری قائم کی۔ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے نہ صرف دشمن کے منصوبے خاک میں ملائے بلکہ دنیا کو یہ باور کروایا کہ پاکستان محض جذبے کا نہیں، تدبیر اور ٹیکنالوجی کا بھی نام ہے۔ جب پاکستان نے رافیل جیسے جدید طیاروں کو زمین بوس کیا، تو صرف بھارت ہی نہیں، دنیا بھر میں یہ پیغام گیا کہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کا انجام بھارت جیسا ہی ہوگا۔ چند گھنٹوں میں دشمن کو گھٹنوں پر لا کر پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ کوئی تر نوالہ نہیں، بلکہ لوہے کا چنا ہے۔ اب دنیا کا ہر دشمن پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا، اور یہ سب کچھ جناب ٹرمپ کے "لطف و کرم" کے باعث ہوا۔
ٹرمپ کی دوسری بڑی "خدمت" ایران اور اسرائیل کی جنگ ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف ایران بلکہ عالمِ اسلام سے اسرائیل کے ٹیکنالوجی اور طاقت کے زعم کو بھی خاک میں ملا دیا۔ اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی استقامت اور جوابی وار نے اسرائیل کو ایسا زخم دیا جسے وہ شاید کبھی نہ بھلا سکے۔ اگرچہ ایران کو شدید جانی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا، مگر وہ ڈٹا رہا۔ ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کی ہلاکت، عسکری تنصیبات کی تباہی، اور جوہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جانا بلاشبہ ایک بڑا دھچکا تھا، لیکن ایران کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی، اور وہ پورے قد کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہا۔ سچ ہے: "جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے۔"
رہی بات ہار یا جیت کی، تو جو ثابت قدم رہتے ہیں، ان کے لیے کبھی شکست نہیں ہوتی۔ صرف نقصان ہوتا ہے، اور اس کا ازالہ وقت کر دیتا ہے۔ ایران کی جرات اور مستقل مزاجی نے یہ سکھا دیا کہ جنگ صرف توپ و تفنگ سے نہیں جیتی جاتی، بلکہ حوصلے، نظریے، اور عزم سے بھی لڑی جاتی ہے۔
رہی بات ایران کی افزودہ یورینیم کی تو آثار یہی ہیں کہ محفوظ ہے۔ اگر وہ محفوظ نہ ہوتی تو اس وقت اس یورینیم کی ریڈی ایشن کے اثرات ایران سمیت کئی ممالک بھگت رہے ہوتے۔ یقیناً ٹرمپ اس بات کو سمجھتے تھے، اسی لیے تو انہوں نے امریکن حملے سے پہلے ہی ایران کو آگاہ کیا تاکہ وہ اپنی یورینیم کو کہیں اور منتقل کر سکے۔ حملے کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کے ایٹمی طاقت بننے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور اب دنیا مکمل طور پر محفوظ ہے۔ (اب کوئی بتائے کہ ٹرمپ جیسی متلون ہستی اور امریکہ جیسی سپر پاور کے ہوتے ہوئے یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے؟)
ٹرمپ نے دنیا کے طاقتور ترین بم استعمال کیے اور بقول خود دنیا کو "محفوظ تر" بنا دیا۔ یہی نہیں، بلکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر بھی کروا دیا، اور ایران کو چین کو تیل بیچنے کی اجازت بھی دے دی تاکہ وہ اپنی برباد شدہ معیشت اور انفراسٹرکچر کو ازسرِ نو تعمیر کر سکے۔
"جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے!"
ایران جو کئی دہائیوں سے عالمی پابندیوں کی زد میں ہے، اس جنگ کے بعد نہ صرف ایک نئی اخلاقی فتح سے ہمکنار ہوا، بلکہ اس کے لیے کئی سفارتی راستے بھی کھل گئے۔ اگر ٹرمپ ایران پر اسرائیلی حملے کی پشت پناہی نہ کرتے، تو وہ خوف کا حصار کیسے ٹوٹتا جو اسرائیل نے عرب دنیا کے ذہنوں پر قائم کر رکھا تھا۔
پاکستان کا بھارت کو شکست دینا، ایران کی اخلاقی فتح، یورینیم کا محفوظ رہنا، اور پھر ان دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ بندی کا عمل—سب کچھ دراصل ٹرمپ کے فیصلوں کی دین ہے۔
ٹرمپ کے شر سے جو خیر نکلا ہے، وہ ہر شریر بندے کے لیے اپنی مثال آپ ہے۔
چاہے نیت کچھ بھی ہو، ٹرمپ کے ان "کارناموں" پر اسے نوبل انعام دیا جانا چاہیے—تاکہ اس کی انا کو تسکین ملے اور آئندہ کسی نئی جنگ میں دنیا کو جھونکنے سے پہلے وہ ایک بار "نوبل" کی طرف ضرور دیکھے۔