کوئٹہ میرا نہیں، ہمارا ہے

احمدخان اچکزئی 
محترم قارئین! کچھ عرصہ قبل ایک  رکن نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے بلا ضرورت یہ اعلان کیا کہ "کوئٹہ پشتونوں کا ہے"۔ اس غیر ذمہ دارانہ بیان نے مجھے گاؤں کے اس شیطان صفت بوڑھے کی یاد دلا دی جو کھیل کود میں مگن بچوں میں سے کسی ایک کو ٹافی دے کر ورغلاتا ہے  "اگر تم بہادر ہو تو اس دوسرے بچے کے کان کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ"۔ جب وہ بچہ ترغیب میں آ کر دوسرے کے کان کو ہاتھ لگاتا ہے، تو ہنستے کھیلتے بچوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے گروہ بندی ہو جاتی ہے اور ان معصوموں کی پْر امن دنیا میں اس بوڑھے کی 'آسیبی چال اپنا کام کر جاتی ہے۔تاہم، اس بظاہر غیر ارادی چال کو آپ کو ان پراکسیز کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جن کا مقصد بلوچستان کو خانہ جنگی میں مبتلا کرنا ہے۔ میری دانش کے مطابق یہی بوڑھے اور ان کے آقا بلوچستان پر ایسے حالات مسلط کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچ اور پشتون (جو صدیوں سے بھائیوں کی طرح رہ رہے ہیں) ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی کوشش کریں اور اس حد تک کمزور ہو جائیں کہ ایک تیسری قوت، ہزارہ قوم کے ذریعے بلوچستان پر حکمرانی کر سکے۔
اس حوالے سے ایک تاریخی واقعہ یاد آتا ہے۔ 2 اپریل 1979 کو راولپنڈی میں پشتونوں کا ایک جرگہ منعقد ہوا، جس میں بتایا گیا کہ جنرل ضیاء￿  الحق نے ہمیں 4 جولائی کو دوپہر کے کھانے پر دعوت دی ہے۔ اس دعوت کا اصل ایجنڈا یہ تھا کہ ہم پشتون برٹش بلوچستان کے لیے الگ صوبے کا مطالبہ کریں۔ میں اس وقت اپنے والد صاحب کے ہمراہ اس جرگے میں شریک تھا۔ میرے والد نے اس مطالبے کی سخت مخالفت کی اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ مطالبہ کبھی پورا نہیں ہوگا، بلکہ اس سے خوامخواہ ہمارے اور بلوچوں کے درمیان تلخی اور دوری بڑھے گی۔جب شرکاء￿  نے ان سے رائے مانگی تو والد صاحب نے کہا ہمارے بہت سے نوجوان بے روزگار ہیں، ہمیں صدر سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہمارے بچوں کو نوکریاں دی جائیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے خان عبد الولی خان کے اس اندیشے کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے بلوچستان میں بلوچوں اور پشتونوں کے الحاق سے حکومت بناتے وقت ظاہر کیا تھا۔ ولی خان نے پوچھا تھا کہ اگر کبھی بلوچوں کے ساتھ حقوق کا تنازع ہوا تو کیا صوبہ سرحد کے پشتون ہمارا ساتھ دیں گے یا غیر جانبدار رہیں گے؟ تب ولی خان نے جواب دیا تھا کہ "نہیں، ہم بلوچستان کے پشتونوں اور بلوچوں کے درمیان تصفیہ کرائیں گے، اور اگر صلح نہ ہو سکی تو ہم پشتونوں کا ساتھ دیں گے۔
اسی تناظر میں میرے والد نے جرگے کے شرکاء￿  سے اجازت چاہی کہ وہ ولی خان سے دوبارہ بات کر لیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ اب بھی اپنی پرانی بات پر قائم ہیں یا نہیں۔ اجازت ملنے کے بعد میں والد صاحب کے ساتھ چارسدہ میں ولی خان کے گھر گیا۔ وہاں تمام صورتحال 
زیرِ بحث آئی تو ولی خان نے واضح کیا کہ اول تو حکومت آپ لوگوں کو الگ صوبہ بنانے نہیں دے گی، اور دوم، بلوچوں کے ساتھ تنازع کی صورت میں انہوں نے اپنے پرانے وعدے کی تجدید کی۔جب ہم واپس آئے اور جرگے کے شرکاء￿  کو ولی خان سے ہونے والی گفتگو کی تفصیل بتائی، تب یہ فیصلہ ہوا کہ ہم الگ صوبے کا مطالبہ ترک کر کے اپنے بچوں کی تعلیم اور ملازمتوں کی بات کریں گے۔ چنانچہ 4 جولائی کو ہم نے جنرل ضیاء￿  الحق کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا اور صوبے میں تعلیم و روزگار کے مسائل پر بات کی۔ ضیاء￿  الحق اس دوران کھانے کی میز پر سب کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہے، جبکہ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ اسی دن ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تھی۔اس دعوت کے بعد جب ہم گلستان کے لیے روانہ ہوئے تو کشمور کے قریب فوج نے راستہ بند کر رکھا تھا۔ پوچھ گچھ کے بعد جب ہمیں جانے کی اجازت ملی تو میں نے وہاں موجود ایک کیپٹن سے صورتحال پوچھی۔ اس نے بتایا کہ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آگے کوئی خطرہ تو نہیں؟ وہ کیپٹن مجھ پر ہنسنے لگا اور کہنے لگا: خان صاحب! آپ لوگ بھی سندھیوں سے ڈرتے ہیں؟ جائیے، کچھ نہیں ہوگا"۔حقیقت یہی ہے کہ پشتون اور بلوچ صدیوں سے اپنی اس سرزمین پر اخوت، رواداری اور بھائی چارے کے ساتھ آباد ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رشتہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔