غلام علی جاوید
کلچر یا ثقافت کا آغاز تو اُسی روز سے ہو گیا تھا جس دن پہلے انسان (حضرت آدم علیہ السلام )کی تخلیق کی گئی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حو ّاکو زمین پر بھیجا گیا اور انھوں نے اپنا بدن چھپانے کے لئے درختوں کے پتوں کا استعمال بطور لباس کیا۔یہاںسے کلچر کا آغاز ہوا کیونکہ لباس کلچر کا اہم جزو ہے۔مختلف لوگوں کے نزدیک کلچر کا مفہوم ذراالگ ہے مگرکسی موڑ پر جا کر سب کی کڑیاں مل جاتی ہیں۔کسی نے ڈھول کی گونج کو کلچر کہا اور کسی نے روایات و اقدار اور مشاغل یا پیشوں کو کلچر کہا۔ مشہور مصنف مسٹر متھائی نے کلچر کو محض ناچنے گانے اور فنون لطیفہ ہی نہیں کہا بلکہ زندگی کی کلیت اور تمام کاروبار کا نام دیا ۔ٹائلر کے نزدیک کلچر میں ہر وہ چیز شامل ہے جس کا تعلق جذبات و احساسات سے ہو۔فیض احمد فیض کے مطابق کلچر سے مراد عجائب گھر میں رکھی ہوئی مورتی یا چغتائی کی تصویر نہیں بلکہ اس کی تعریف میں دیہات کے مٹی کے برتن ، جست اور تانبے کے برتن ، کھجور کے پتوں کی چنگیریںاور اس طرح کی دوسری چیزیں شامل ہیں۔
کلچر کسی بھی قوم کا عکاس ہوتا ہے ۔ کلچر ہی قوموں کے اطوار واقدار کا پتہ دیتا ہے۔جس قوم کا کلچر جتنا تیزی سے پھیل رہا ہو سمجھ جائو کہ وہ قوم اتنی ہی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ جہاں کلچر کی روشنی ماند پڑ رہی ہو تووہ قوم بھی تباہی کی طرف گامزن ہو رہی ہوتی ہے۔عموماً انسان ایسے لوگوں کے اطوارو اقدارکو اپناتے ہیں جو زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے ہوتے ہیں۔ زندہ قوموں کا کلچر بھی زندہ ہوتا ہے اورمردہ قوموں کا کلچربھی مرجاتا ہے ۔چہرے بہت بڑے مخبر ہوتے ہیں اور چہروں ہی سے قوموںکی کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔وقت کی ساتھ ساتھ عادتیں اور طور طریقے اپنا پہلو بدلتے رہتے ہیں مگر مقصد یا شوق وہی رہتا ہے۔شوق یا جذبے فطرتی ہیں جب تک انسان نے باقی رہنا ہے جذبوں اور شوق نے باقی رہنا ہے۔
یہ خطہ جہاں پاکستان آباد ہے اس کا کلچر مختلف ثقافتوںکا امتزاج ہے۔ اس خطے پر مختلف اوقات میں مختلف حملہ آوروں نے حملے کئے اور اپنے کلچر کا رنگ چھوڑتے گئے جس کو یہاں کے لوگوں نے آہستہ آہستہ اپنے اندرسمو لیااس طرح کلچر کی مزید نموہوئی۔پھر یوں ہوا کہ اِس کا سورج دنیا بھر میں چمکنے لگا ۔جس کی چمک سے پاکستانی روایات کو قومیں اپنانے لگیں۔ قسمت کی دیوی مہربان ہونے لگی۔کلچر کی تصویر بولنے لگی ، خوشبو پھیلنے لگی۔دنیا کی ثقافتوں کو ہاتھ ہلا ہلا کر اپنے ہونے کا پتہ دینے لگی ۔میٹھی بولیوں پر رقص ہونے لگا ۔جذبات جھومنے لگے ۔دنیا کے سیاح ادھر آنے لگے۔
؎ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
پاکستانیوں کی کچھ روایات و اقداروقت کے سیلاب میں بہہ گئی ہیں ۔روایتی طور طریقے راہیںبھٹک گئے ہیں۔ کسی اور ثقافت نے نقش پامال کر دیے ہیں۔ کہاں سے لائوں پگڑی کا بھرم، جوانوں کا شرم، دلہن کی ڈولی، دولہے کی گھوڑی اورکھوجی کی کھوری ؟چرخے کی کُوں کُوں ، ترنجن کی شرارتیں ، تختیوں کی عبارتیں اور پنجابی کی کہاوتیں۔سسی پنوں ، سوہنی ماہیوال، مرزاصاحباں، ہیر رانجھاکی کہانیاں، چھلہ مندری انگوٹھی اور رومال کی نشانیاں۔گھٹی اور جھنڈ لوائی کا شور ختم ہو گیا ہے۔ جنازے کا ہجوم بکھر گیا ہے۔برداشت کا گلادب گیا ہے۔اخلاص کا شیشہ ٹوٹ گیا ہے۔گِدھے کا رقص سہم گیا ہے۔جھومرکی آواز گونگی ہو گئی ہے۔نانی کی کہانی چھپ گئی ہے۔بزرگوں کی محفلیںچپ ہو گئی ہیں ۔ جاگتی شامیں سو گئیں ہیں۔خطوط کی زبان کٹ گئی ہے۔عید کارڈ کی پیاس مر گئی ہے۔احترام کی تصویر دھندلاگئی ہے۔شرم و حیا کی تحریر مٹ گئی ہے۔حُقّے کی بُڑ بُڑروٹھ گئی ہے۔دھوتی کُرتے اور کھُسے کی کھیتی سُوکھ گئی ہے۔ ہائے سرسوں کاساگ اور مکھن کے جلوے، مکئی کی روٹی ، چاٹی کی لسی اور گرم حلوے ۔