فرخ بصیر
پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے جیالے اور جیالیوں 5جنوری کو قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 98ویں سالگرہ منا رہے ہیں تو دل ایک عجیب و غریب سی کیفیت کا شکار ہے۔ 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ کی سرزمین پر جنم لینے والا یہ فرزندِ خاکِ وطن، پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ وہ شخصیت جو عوام کی آواز، مظلوموں کا سہارا اور ایک ٹوٹے پھوٹے ملک کی نئی امید بنی اور جس نے اس ارض وطن کو نئی طاقت اور نئی شناخت عطا کی۔
بھٹو صاحب صرف ایک سیاستدان نہیں تھے؛ وہ ایک انقلاب اور ایک خواب تھے جو آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔
بھٹو صاحب کی زندگی جدوجہد اور قربانیوں کا استعارہ ہے۔ 1971 کے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد جب ملک دولخت ہو چکا تھا اور قوم مایوسی کے گڑھے میں گر چکی تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو سنبھالا،99 ہزار فوجی قیدی رہا کرائے،پاکستان کو1973 کا متفقہ آئین دیا۔جو آج بھی ہماری وفاقی اور جمہوری بنیاد ہے۔ انہوں نے عوام کو ووٹ کا حقیقی حق دیا، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو عام آدمی کی پہنچ میں لائے اور ان کیلئے بیرون ملک ملازمتوں کے مواقع کھلوائے،اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کروایا، جس نے مسلم امہ کو متحد کرنے کا خواب دکھایا۔ اور سب سے بڑھ کر، پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی، وہ طاقت جو آج ہماری آزادی اور خودمختاری کی ضمانت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا"روٹی، کپڑا اور مکان" کا نعرہ صرف ایک شعار نہیں تھا؛ یہ غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کی آواز تھی جو بھٹو صاحب نے بلند کی۔
لیکن بھٹو صاحب کی عظمت صرف ان کی کامیابیوں میں نہیں، ان کی قربانی میں بھی ہے۔ انہوں نے طاقتوروں کے سامنے جھکنا گوارا نہیں کیا۔ عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان کو خودمختار بنانے کی جدوجہد کی، اور بالآخر 4 اپریل 1979 کو عدالتی قتل کا شکار ہوئے۔ ان کی شہادت نے ثابت کیا کہ بھٹو جیتے جی بھی زندہ تھے اور مرنے کے بعد بھی زندہ رہیں گے۔
آج، 2026 میں، جب ہم بھٹو صاحب کی سالگرہ منا رہے ہیں،پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ معاشی اور علاقائی چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ مہنگائی، قرضوں کا بوجھ، سیاسی عدم استحکام،خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور قدرتی آفات کے سائے اب بھی موجود ہیں تاہم ملک ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہے، اصلاحات اور نجکاری کے عمل کے نتیجے میں قومی ائر لائن نجی شعبے کے سپرد کی جا چکی ہے ، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں، اسلام آباد میں نئے کنونشن سنٹر اور سٹیٹ آف دی آرٹ نئے کرکٹ سٹیڈیم کے
منصوبوں پر پیشرفت شروع ہو چکی ہے جبکہ ایس آئی ایف سی کی زبانی روز محنت سے ملک میں محفوظ سرمایہ کاری کا آغاز بھی خوش آئند ہے۔لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ سیاسی تقسیم، بدعنوانی اور اداروں کی کمزوریاں ہمیں پیچھے کھینچ رہی ہیں بالخصوص اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کی دوغلے پالیسیاں ملک میں سیاسی استحکام کو نقصان پہنچا رھی ہیں۔ایک طرف انہوں نے محمود اچکزئی کو مذاکرات کا اختیار دے رکھا ہے دوسری طرف وہ خود اور انکی ہمشیرہ علیمہ خان یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ حکومت سے مذاکرات کرنیوالا ہم میں سے نہیں جس کا واضح مطلب ملک میں انتشار اور افراتفری کو ہوا دینا ہے جو بقول انجینئر محمد علی مرزا بانی پی ٹی آئی جیل میں بہت فرسٹریٹڈ ہیں اورجب غصّے میں آتے ہیں تو بہت اْونچی آواز میں اور مسلسل بولتے ہیں جسکی آواز قریبی بیرکوں تک جاتی ہے چناچہ ہمیں سوچنا اور سمجھنا ہو گا کہ آج کا پاکستان بھٹو صاحب کے خواب سے کتنا قریب ہے؟ کیا ہم نے ان کے دیے ہوئے آئین کی حقیقی روح کو زندہ رکھا ہے؟ کیا عوام کی فلاح واقعی ہماری اولین ترجیح ہے؟
بھٹو صاحب کا پیغام "جمہوریت بہترین انتقام ہے"آج بھی تازہ ہے،اگر ہم مضبوط وفاق، صوبوں کے حقوق، عوامی بہبود اور خودمختار خارجہ پالیسی کے اصولوں پر چلیں تو پاکستان ناقابلِ تسخیر بن سکتا ہے۔ اس ملک میں ائین،جمہوریت،پارلیمنٹ کی بالا دستی اور عوامی حقوق کیلئے بھٹو خاندان نے قربانیوں کی لامتناہی داستان لکھی ہے بیگم نصرت بھٹو، شہید بے نظیر بھٹو اور آج بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی انہی اصولوں پر کار فرما ہے۔
آئیے، آج ہم بحیثیت قوم اس عظیم رہنما کی سالگرہ پر عہد کریں کہ ہم بھٹو صاحب کے پاکستان کو معاشی،سیاسی اور آئینی طور پر مزید مضبوط بنائیں گے۔ غریبوں کی آواز بنیں گے، وفاق کو متحد رکھیں گے اور ایک ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں ہر شہری کو روٹی، کپڑا، مکان اور عزتِ نفس میسر ہو۔