خاموش وبا کا پھیلاؤ

رفیع صحرائی
پاکستان ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک خاموش مگر مہلک بیماری تیزی سے اپنے پنجے گاڑ رہی ہے۔ ایچ آئی وی (ایڈز) جسے کبھی ایک محدود مسئلہ سمجھا جاتا تھا اب ایک قومی سطح کے چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا یہ کہنا کہ پاکستان ایشیا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ ممالک میں سب سے زیادہ متاثر ہو چکا ہے، محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے جسے نظر انداز کرنا خودفریبی کے مترادف ہوگا۔
حالیہ اخباری رپورٹس اس خطرے کی شدت کو مزید واضح کرتی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رواں سال ایچ آئی وی کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2025 میں جہاں 498 کیسز رپورٹ ہوئے، وہیں 2026 کے ابتدائی مہینوں تک یہ تعداد بڑھ کر 618 تک جا پہنچی۔ ان میں مرد، خواتین اور بچے سب شامل ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مرض کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے کے ہر حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ملک میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی مجموعی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے ایک بڑی تعداد کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ اس مرض کا شکار ہیں۔ یہی لاعلمی اس بیماری کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سبب بن رہی ہے۔ جب مریض کو اپنی حالت کا علم نہ ہو تو نہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو محفوظ رکھ پاتا ہے۔
ابتدا میں یعنی 1980ء کی دہائی میں ایڈز کو ایک پراسرار بیماری سمجھا گیا۔ پہلے یہ خیال کیا گیا کہ یہ صرف مخصوص گروہوں (خاص طور پر ہم جنس پرست مردوں) میں پھیلتی ہے۔ بعض ماہرین نے اسے کمزور مدافعتی نظام یا طرزِ زندگی سے جوڑا۔ کچھ لوگوں نے غلط طور پر اسے کسی ایک علاقے یا ملک کی بیماری قرار دیا۔ 
سائنسی تحقیق نے واضح کیا کہ ایڈز دراصل HIV وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ وائرس انسانی مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ یہ بیماری خون، غیرمحفوظ جنسی تعلق، آلودہ سرنج اور ماں سے بچے میں منتقل ہو سکتی ہے یعنی ابتدا میں اس بیماری کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں تھیں مگر وقت کگ ساتھ ساتھ تحقیق نے اصل وجہ کو واضح کر دیا۔ 
اگر اس مسئلے کی جڑوں کا جائزہ لیا جائے تو کئی تلخ حقائق سامنے آتے ہیں۔ ہمارے ہاں غیر محفوظ طبی طریقہ کار ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرنجز کا بار بار استعمال، غیر مستند بلڈ بینکس، اور حفظانِ صحت کے اصولوں سے لاپرواہی اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات کے عادی افراد میں مشترکہ سرنج کا استعمال بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
سماجی سطح پر بھی صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایچ آئی وی کو اب بھی ایک ‘‘شرمناک’’ بیماری سمجھا جاتا ہے۔ آگہی کی کمی اعر اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے کوئی باقاعدہ آگاہی مہم شروع نہ کرنے کی وجہ سے لوگ اب بھی اس بیماری کو جنسی بے راہ روی کا شاخسانہ سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ایڈز میں مبتلا افراد اپنی بدنامی کے خوف اور شرم کے مارے کسی سے اپنی بیماری کی بات شیئر نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ متاثرہ افراد نہ صرف علاج سے کتراتے ہیں بلکہ اپنی بیماری کو چھپاتے بھی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ان کی اپنی صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بم کی مانند ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
حکومتی اقدامات اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ کافی ہیں؟ بلاشبہ محدود پیمانے پر مختلف پروگرامز کے تحت آگاہی مہمات اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگر واقعی صورتحال قابو میں ہوتی تو کیسز میں اس تیزی سے اضافہ دیکھنے میں نہ آتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ایمرجنسی کے طور پر لیا جائے۔
ہمیں فوری طور پر چند بنیادی اقدامات کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ سب سے پہلے، عوام میں شعور بیدار کرنا ہوگا تاکہ لوگ اس بیماری کے بارے میں کھل کر بات کریں اور ٹیسٹ کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ دوسرا، طبی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ غیر محفوظ طریقوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ تیسرا، منشیات کے عادی افراد کے لیے بحالی مراکز اور محفوظ طریقہ کار کو فروغ دینا ہوگا۔
سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی سماجی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ جب تک ہم ایچ آئی وی کو ایک ‘‘بدنامی’’ کے بجائے ایک بیماری کے طور پر قبول نہیں کریں گے، تب تک اس کے خلاف مؤثر جنگ ممکن نہیں۔ متاثرہ افراد کو ہمدردی، علاج اور سہارا چاہیے، نہ کہ نفرت اور تنہائی۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم آنکھیں کھولیں اور اس خاموش وبا کو سنجیدگی سے لیں۔ اگر آج ہم نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو کل یہ مسئلہ ہمارے کنٹرول سے باہر ہو سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایچ آئی وی پھیل رہا ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے روکنے کے لیے کب جاگیں گے؟