لہو لہو فلسطین اور خاموش دنیا

شہزاد راجپوت

زمین پر کچھ خطے ایسے ہیں جو صرف جغرافیہ نہیںبلکہ انسانیت کے ضمیر کا پیمانہ ہوتے ہیں۔ غزہ اْن میں سے ایک ہے ۔ایسا مقام ہے جہاں ہر روز لاشوں اور آنسوؤں کے ذریعے خاموشی کی سیاہی سے تاریخ لکھی جا رہی ہے۔غزہ جو صرف 365 مربع کلومیٹر پر پھیلا ایک چھوٹا سا خطہ ہے۔ آج دنیا کے سب سے بڑے کھلے قید خانے میں بدل چکا ہے۔ جہاں زندگی قید ہے، آزادی ایک خواب ہے اور موت ایک روزمرہ کا معمول ہے۔ اسرائیلی بمباری، فضائی حملے، زمین پر ٹینکوں کی گھن گرج اور سمندر سے بحری حملے یہ سب کچھ اس چھوٹے سے علاقے پر مسلسل برسوں سے مسلط ہیں۔ان حملوں کا نشانہ دہشتگرد نہیں بلکہ وہ بچے ہیں جو ابھی الف، بے، پے سیکھ رہے تھے۔ وہ مائیں ہیں جو بچوں کے ساتھ پناہ گاہوں میں چھپ کر قرآن کی تلاوت کر رہی تھیں۔ وہ بزرگ ہیں جو اپنی زندگی کے آخری ایام میں سکون چاہتے تھے۔ اسرائیلی میزائل ان سب پر یکساں برس رہے ہیں۔ہسپتال، سکول، ریلیف کیمپ، میڈیا دفاتر کچھ بھی محفوظ نہیں۔ اسرائیل کی بے رحمی ہر حد کو پار کر چکی ہے۔عالمی برادری خصوصاً وہ ممالک جو خود کوانسانی حقوق کے علمبردار کہتے ہیں۔اس ساری تباہی پر شرمناک حد تک خاموش ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں صرف کاغذی نوٹس ہیں۔ جن کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں اسرائیل کی پشت پناہی کر کے اس ظلم میں برابر کی شریک ہیں۔ مغربی میڈیا اسرائیل کی مظلومیت کے جھوٹے بیانیے کو پھیلانے میں مصروف ہے جبکہ فلسطینی بچوں کی لاشیں عالمی خبروں کے کناروں پر بھی جگہ نہیں پاتیں۔امت مسلمہ کی خاموشی شاید اس سارے المیے کا سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔ جہاں ایک طرف اسرائیل اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہیں مسلمان ممالک اپنی سیاسی مصلحتوں اور ذاتی مفادات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ عرب لیگ ہو یا او آئی سی سب نے زبانی بیانات کے سوا کچھ نہیں کیا۔ یہ وہی امت ہے جسے "ایک جسم" کہا گیا، کہ اگر ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جائے لیکن آج یہ جسم بے حس اور بے حرکت دکھائی دیتا ہے۔غزہ آج پوری دنیا کے سامنے ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا طاقتور کی جارحیت کا کوئی حساب نہیں؟ کیا مظلوموں کی فریاد صرف دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جائے گی؟ کیا اسلامی دنیا صرف تقریروں، دعاؤں اور ٹویٹس پر ہی اکتفا کرے گی؟ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔لیکن ہر اندھیری رات کے بعد سویرا ہوتا ہے۔ فلسطینی عوام نے ہمیں دکھایا کہ ظلم کے سائے جتنے بھی گہرے ہوں، حوصلے کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ ان کے بچے، نوجوان، اور مائیں سب اپنی جانیں قربان کر کے ایک پیغام دے رہے ہیں: "ہم زندہ ہیں، ہم مزاحمت کریں گے، ہم اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔"غزہ کی چیخیں ہم سب کو بلا رہی ہیں۔ ہمیں صرف غمگین ہونے کی نہیںبلکہ عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔ اپنے حکمرانوں کو جھنجھوڑنے کی، عالمی فورمز پر آواز بلند کرنے کی، سوشل میڈیا کے ذریعے سچ کو دنیا تک پہنچانے کی۔غزہ کے بچوں کا خون ہم سب سے سوال کرتا ہے۔ کیا تم واقعی زندہ ہو؟