خلیج کا خاموش تصادمخلیج کا خاموش تصادم

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
مئی سے سعودی بینکوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنیوں اوردبئی کے بعض افرادکے کھاتوں میں بھیجی جانے والی ادائیگیاں روکنے یاواپس کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔یہ تفصیل اہم ہے،کیونکہ اگرمسئلہ چندانفرادی لین دین تک محدودنہ ہوبلکہ ایک عمومی رجحان کاتاثرپیداکرے توسیاسی اختلاف کامعاملہ ادارہ جاتی سطح تک پہنچتا محسوس ہوتاہے۔
ریاستیں ایک دوسرے سے ناراضی کااظہارکئی طریقوں سے کرتی ہیں۔کبھی سفارتی بیان،کبھی تجارتی ضابطہ،کبھی سرحدی پالیسی اور کبھی مالی نگرانی۔ جدید دنیامیں بینکنگ نظام بھی سفارت کاری کاخاموش آلہ بن چکاہے۔تاہم چونکہ سعودی مرکزی بینک نے مخصوص ملک کے خلاف پابندی کی تردیدکی ہے،اس لیے اس صورتِ حال کواعلان شدہ مالی پابندی کہنادرست نہیں ہوگا۔زیادہ محتاط تعبیریہی ہے کہ فراہم کردہ خبرمیں ایسے متعددواقعات یعنی مئی سے ادائیگیوں کی مبینہ واپسی  کشیدگی کاادارہ جاتی رنگ کاذکرہے جنہوں نے کاروباری حلقوں میں سیاسی محرکات کے شبہے کوتقویت دی ہے۔
خبر میں دبئی کی ایک صحت کے شعبے سے وابستہ کمپنی کاحوالہ دیاگیاہے،جس کے ایک عہدیدارکے مطابق مئی کے وسط سے ایک دیرینہ سعودی صارف کی متعددادائیگیاں روک کر واپس کردی گئیں۔بڑی سیاسی کشمکش کی حقیقت کبھی ایک چھوٹے واقعے میں پوری طرح نمایاں ہوجاتی ہے۔ایک کمپنی،ایک گاہک اورچندواپس ہونیوالی ادائیگیاں شایدعالمی سیاست میں معمولی دکھائی دیں،مگرکاروباری دنیاکیلئے یہی واقعات خطرے کی گھنٹی بنتے ہیں۔
اگربرسوں سے جاری کاروباری تعلق بھی اچانک مالی رکاوٹ میں پھنس جائے توکمپنی یہ سوال ضرورپوچھتی ہے کہ آیامسئلہ تکنیکی ہے یااس کے پس منظرمیں کوئی وسیع ترریاستی تبدیلی کارفرماہے۔یہی وجہ ہے کہ معاشی عدم اعتمادسیاسی اختلاف کوکئی گنابڑھادیتا ہے۔حکومتیں ایک دوسرے سے بات کرسکتی ہیں، مگر اگر تاجروں نے اپنے خطرات کاحساب بدل لیاتو تعلقات کی بحالی زیادہ دشوارہو جاتی ہے اوربڑے تنازعہ کاچھوٹاآئینہ بھی خطرات کی گھنٹی ثابت ہوجاتا ہے۔
دسمبرکے ایک واقعے کوسعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کانمایاں مظہرقراردیاگیاہے،جس میں یمن کی سدرن ٹرانزیشنل کونسل کیلئے بھیجے جانے والے فوجی سازوسامان سے متعلق ایک کھیپ پرسعودی کارروائی کاذکرہے جبکہ متحدہ عرب امارات کواس تنظیم کااتحادی بھی قراردیاجارہاہے۔یمن برسوں سے صرف یمنیوں کی جنگ نہیں رہا؛ وہ خطے کی طاقتوں کے مفادات، سلامتی کے خدشات اورسیاسی منصوبوں کاسنگم بن گیاہے۔اگردواتحادی ایک ہی ملک میں مختلف مقامی قوتوں کوترجیح دینے لگیں تو اتحادکی بنیادمیں تضادپیدا ہوناناگزیرہے۔
اس واقعے کے بعدسعودی اوراماراتی میڈیا،تجزیہ کاروں اورمعروف سوشل میڈیااکانٹس کے درمیان شدید لفظی کشمکش سامنے آئی، حتی کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے العربیہ کے بعض ایکس اکاؤنٹس پرپابندی کاذکر بھی کیاگیاہے۔جب حکومتوں کا اختلاف ذرائع ابلاغ تک پہنچ جائے توسمجھناچاہیے کہ پردے کے پیچھے کی خاموشی کمزورپڑرہی ہے۔ میڈیااکثراس جنگ کانقارہ بن جاتاہیجسے سفارت کاری ابھی نام دینے سے گریزاں ہوتی ہے تاہم یمن کایہ مسئلہ میدانِ جنگ سے خلیجی تعلقات کے قلب تک سرایت کرگیاہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق  متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف جنگ میں نسبتاجارحانہ رویہ اختیارکیاہے اوراس کی عملی شمولیت ابتدائی اندازوں سے زیادہ گہری تھی۔ اگراس دعوے کودونوں ممالک کے تعلقات کے فریم میں دیکھاجائیتویہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سلامتی کی سوچ کے درمیان بنیادی فرق کی طرف اشارہ کرتاہے۔ متحدہ عرب امارات کی علاقائی  حکمتِ عملی، زیادہ فعال،براہِ راست اورخطرہ مول لینے والی نظر آتی ہے۔ اس طرزِفکرمیں چھوٹی ریاست اپنی جغرافیائی جسامت کے باوجود بڑی طاقت کے طورپرپہچان بنانے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے ۔
مگرطاقت کاہرمظاہرہ اپنے ساتھ قیمت بھی لاتاہے۔خلیج میں ایران کے ساتھ براہِ راست محاذآرائی تجارت،توانائی،سمندری راستوں اور شہری مراکز کیلئے غیرمعمولی خطرات پیداکرسکتی ہے۔جس خطینیخوشحالی کی عمارت استحکام پرتعمیرکی ہو،وہاں جنگ کی ایک چنگاری بھی سونے کے محل کودھوئیں میں چھپا سکتی ہے جبکہ ایران کے خلاف جنگ اوراماراتی جارحانہ طرزِعمل کوجواب میں خدانخواستہ بلندوبالا عمارات کے جنگل جنگ کے معمولی زلزلے کے جھٹکے کھنڈرات کاپیش خیمہ قیامتِ صغری کانقشہ پیش کر سکتے ہیں۔
تاہم سعودی عرب کارویہ متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں زیادہ محتاط اور متوازن دکھائی دیتاہے۔ریاض نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پرحملوں کی مذمت کی،امریکی افواج کیلئے طائف کے کنگ فہدایئربیس کے استعمال پرآمادگی ظاہرکی،مگراسی دوران اسلام آبادکے ذریعے تہران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش بھی جاری رکھی۔یہ بیک وقت تلواراورزیتون کی شاخ تھامنے کی حکمتِ عملی ہے۔سعودی عرب کیلئے ایران صرف ایک حریف نہیں،ایک ایساہمسایہ بھی ہے جسے جغرافیہ سے نکالانہیں جاسکتا۔ریاستیں دشمن بدل سکتی ہیں،پڑوسی نہیں۔اسی لیے ریاض کیلئے مکمل جنگ کی قیمت شایدکسی بھی محدودسیاسی کامیابی سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
پاکستان کانام بطورسفارتی رابطہ سامنے آنابھی اہم ہے۔پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھتاہے اورایران کے ساتھ بھی سرحدی وسفارتی رشتہ رکھتاہے۔چنانچہ اسلام آبادنے ایک ایسے پل کاکرداراداکیاہے جس پروہ فریق بھی چلنے پرآمادہ ہوگئیہیں جوبراہِ راست ایک دوسرے کے دروازے تک جانے میں ہچکچاتے تھے۔
ادھردوسری طرف نگاہ دوڑائیں توعالمی سیاسی مبصرین کیلئے اوپیک سے اماراتی علیحدگی کادعوی اورتیل کی سیاست کی یہ خبر حیران کن تھی کہ متحدہ عرب امارات نے تقریباساٹھ برس کی رکنیت کے بعداوپیک سے علیحدگی اختیارکی اوراس کے بعداپنی تیل کی پیداوارمیں نمایاں اضافہ کردیا۔چونکہ اس مخصوص دعوے کی آزاد بیرونی تصدیق اس رپورٹ کی تیاری کے دوران ممکن نہیں،اسے خبرکے طورپرپڑھناچاہیے کہ سیاسی استدلال میں اس نکتے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اوپیک صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کاتکنیکی فورم نہیں؛وہ دہائیوں سے توانائی اورعالمی معیشت پراثرانداہونے والی اجتماعی طاقت کی علامت رہاہے۔ 
سعودی عرب اس نظام کاسب سے بااثرمحورتصورکیاجاتاہے۔اگرکسی بڑے خلیجی پیداواری ملک کی ترجیحات اس اجتماعی نظم سے الگ ہونے لگیں تومعاملہ صرف بیرلوں کی تعدادکا نہیں رہتا۔یہ اس سوال کوجنم دیتاہے کہ آیاخلیج میں توانائی کی سیاست اب مشترکہ نظم سے نکل کرقومی معاشی مفادات کی زیادہ سخت مسابقت کی طرف بڑھ رہی ہے۔تیل کاکنواں بظاہرزمین میں ہوتاہے،مگراس کاسایہ سفارتکاری کے ایوانوں تک جاتاہے۔
سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے تعلقات کوایک دوسرے کے خلاف معاشی تھکن کی جنگسے تعبیرکیاجاسکتاہے اوریہ وہ مقابلہ ہے جس میں گولی نہیں چلتی لیکن اس کے بھیانک معاشی اثرات دنیاکوہلادینے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔تاہم کاروباری ادارے ممکنہ مزید کشیدگی کے پیشِ نظرمتبادل منصوبے تیارکررہے تھے۔یہ تعبیراپنے اندرایک پوری سیاسی داستان سمیٹے ہوئے ہے۔جدیدریاستوں کی جنگ ہمیشہ میدان میں نہیں لڑی جاتی۔بندرگاہیں،سرمایہ کاری،ایئرلائنز،مالیاتی مراکز،سیاحت،ٹیکنالوجی،کمپنیوں کے علاقائی دفاتر اورتیل کی پیداواربھی مقابلے کے ہتھیاربن سکتے ہیں۔
سعودی عرب اپنی معیشت کووسعت دینے،غیرملکی سرمایہ کھینچنیاورعلاقائی کاروباری مرکزبننیکی کوشش کرے،اوراسی وقت دبئی اپنی پہلے سے قائم تجارتی برتری محفوظ رکھنے کیلئے سرگرم ہو،تودونوں کے درمیان مسابقت فطری ہے۔لیکن مسابقت اورمخاصمت کے درمیان فاصلہ باریک ہوتاہے۔جب کاروباری دنیاہنگامی منصوبے بنانے لگے تویہ اس بات کی علامت ہے کہ بازارسیاسی خطرے کو سنجیدگی سے لینے لگاہے۔(جاری ہے)