روسی پارلیمانی انتخابات، پیوٹن کی حمایت یافتہ جماعت کو واضح برتری

روسی پارلیمانی انتخابات، پیوٹن کی حمایت یافتہ جماعت کو واضح برتری

ماسکو: روس کے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی اور تقریباً مکمل نتائج میں صدر ولادیمیر پیوٹن کی حمایت یافتہ جماعت یونائیٹڈ رشیا نے واضح برتری حاصل کرلی ہے۔

رائٹرز کے مطابق 95 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر یونائیٹڈ رشیا نے تقریباً 57.83 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں، جس کے نتیجے میں جماعت کو 450 رکنی اسٹیٹ ڈوما میں تقریباً 355 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اس کامیابی کے بعد جماعت ایوان میں اپنی آئینی اکثریت برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہے۔ابتدائی نتائج کے مطابق کمیونسٹ پارٹی تقریباً 13.81 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDPR) نے تقریباً 8.98 فیصد اور نیو پیپل پارٹی نے 7.96 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ جسٹ رشیا پارٹی بھی پانچ فیصد کی مطلوبہ حد کے قریب ہے اور اس کے پارلیمان میں پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔یہ انتخابات فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف روس کی مکمل فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد ملک میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ صدر پیوٹن نے انتخابات کو جنگ کے دوران عوامی حمایت کے ایک پیمانے کے طور پر پیش کیا تھا، جبکہ رائٹرز کے مطابق کئی جنگ مخالف امیدواروں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔

روس کے مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق ابتدائی طور پر ووٹر ٹرن آؤٹ 59.3 فیصد رپورٹ ہوا، جو اس نوعیت کے انتخابات میں ایک بلند شرح قرار دی گئی ہے۔ سٹیٹ ڈوما کی 450 نشستوں میں سے نصف ارکان پارٹی فہرستوں کے ذریعے جبکہ باقی نصف سنگل سیٹ حلقوں سے منتخب ہوتے ہیں۔انتخابات کے دوران روس کے مختلف علاقوں میں یوکرین کی جانب سے ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ رائٹرز کے مطابق آخری روز ماسکو پر بھی ڈرون حملہ ہوا، جبکہ روسی حکام نے ملک کے مختلف علاقوں میں حملوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کی اطلاعات دیں۔دوسری جانب یوکرین نے روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقوں میں روسی پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ روسی حکام نے تاہم ووٹنگ کو ملک کے آئینی اور سیاسی عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔

حتمی نتائج تمام ووٹوں کی گنتی اور متعلقہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جاری کیے جائیں گے، تاہم موجودہ نتائج کے مطابق یونائیٹڈ رشیا نے ایوانِ زیریں میں اپنی فیصلہ کن پارلیمانی پوزیشن برقرار رکھنے کی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔