لاہور میں سرکاری نرخ نامے کے برعکس سبزیوں کی مہنگے داموں فروخت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو سرکاری قیمتوں اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں میں نمایاں فرق کا سامنا ہے۔
تازہ مارکیٹ رپورٹ کے مطابق متعدد سبزیاں مقررہ سرکاری نرخ سے کئی روپے زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔نرخوں کے مطابق آلو کی سرکاری قیمت 30 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں درجہ اول آلو 50 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ پیاز کا سرکاری نرخ 180 سے 185 روپے کے قریب ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ 200 سے 220 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ ٹماٹر کا سرکاری نرخ 185 روپے فی کلو تک مقرر کیا گیا ہے، لیکن مارکیٹ میں درجہ اول ٹماٹر 220 روپے فی کلو تک دستیاب ہے۔اسی طرح سبز مرچ 135 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 160 روپے، شملہ مرچ 265 روپے کے بجائے 300 روپے جبکہ پھول گوبھی 180 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 200 سے 220 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق لہسن ہرنائی کی سرکاری قیمت 320 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ 400 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ادرک تھائی لینڈ کا سرکاری نرخ 330 روپے کے مقابلے میں مارکیٹ میں 400 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب سرکاری نرخ نامے کے مطابق بعض دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بھی واضح فرق سامنے آیا ہے۔ سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان یہ فرق شہریوں کے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔پنجاب حکومت کے سرکاری نرخ نامے میں لاہور سمیت مختلف اضلاع کے لیے سبزیوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں جاری کی جاتی ہیں، جبکہ لاہور ضلعی انتظامیہ بھی سبزیوں کی روزانہ نرخ فہرست جاری کرتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامہ موجود ہونے کے باوجود اگر سبزیاں اس سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی رہیں تو نرخ مقرر کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کرے۔