سرکاری نرخ نامہ بے اثر، اوپن مارکیٹ میں سبزیاں اور پھل مہنگے داموں فروخت

سرکاری نرخ نامہ بے اثر، اوپن مارکیٹ میں سبزیاں اور پھل مہنگے داموں فروخت

اوپن مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں سرکاری نرخ نامے اور اصل فروخت کے درمیان واضح فرق برقرار ہے، جس کے باعث شہری روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔

سرکاری نرخ نامے کے مطابق آلو کی قیمت 40 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں یہ 60 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح پیاز کی سرکاری قیمت 97 روپے فی کلو ہے، لیکن دکاندار 150 روپے فی کلو وصول کر رہے ہیں، جبکہ ٹماٹر 200 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 250 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔لہسن ہرنائی کی سرکاری قیمت 235 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر مارکیٹ میں اس کی قیمت 450 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ ادرک 350 روپے کے بجائے 400 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ بھنڈی 95 روپے کے بجائے 120 روپے، کریلا 66 روپے کے مقابلے میں 100 روپے اور ٹینڈے 114 روپے کی سرکاری قیمت کے مقابلے میں 120 روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں۔پھلوں کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد نظر نہیں آ رہا۔ کچے آم کی سرکاری قیمت 40 روپے فی کلو ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں یہ 90 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ سندھڑی آم 230 روپے کے بجائے 290 روپے جبکہ دوسہری آم 220 روپے کے مقابلے میں 260 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح تربوز کی سرکاری قیمت 40 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود 60 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ آڑو 190 روپے کے بجائے 250 روپے، سیب 355 روپے کے بجائے 400 روپے فی کلو جبکہ کیلے، جن کی سرکاری قیمت 150 روپے فی درجن مقرر ہے، مارکیٹ میں 200 روپے فی درجن فروخت کیے جا رہے ہیں۔شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور قیمتوں کو کنٹرول کرکے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔