مذہب کے نام پر جتھے قابل قبول نہیں، یہ کون تیار کرتے رہے سب کو پتہ ہے: خواجہ آصف

مذہب کے نام پر جتھے قابل قبول نہیں، یہ کون تیار کرتے رہے سب کو پتہ ہے: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ مذہب کے نام پر تشکیل دیے گئے جتھے اور انتہا پسند گروہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ یہ جتھے کون تیار کرتا رہا ہے اور کس مقصد کے لیے، سب کو اچھی طرح سے معلوم ہے، اور اب ملک کو ان سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ پاکستان میں بھی اس طرح کے جتھوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، کیونکہ کئی دہائیوں سے یہ عناصر ملک میں تخریبی سرگرمیاں انجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ریاست قانون، قواعد اور آئین کے مطابق عمل کرے گی، اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے مذہبی گروہ اور جماعتیں لوگوں کو مارنے، املاک کو نقصان پہنچانے اور فساد پھیلانے کے لیے سرگرم ہیں، جو کہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں ایک مضبوط اور ہارڈ اسٹیٹ بننا ہوگا تاکہ ایسے عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔

خواجہ آصف نے ایک سوال کے جواب میں اس بات کا تذکرہ کیا کہ ٹی ایل پی پر پابندی لگنے کا فیصلہ حتمی ہے یا نہیں، اس پر بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے کارکنان کو اسلام آباد کے لیے تیار رہنے کے بیان سے متعلق انہیں علم نہیں ہے، اور وہ مولانا فضل الرحمان کو بہت قابل احترام سمجھتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق کوئی بھی بات کرنے سے گریز کریں گے، کیونکہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر مذہبی انتہا پسندی کے خلاف سخت موقف اپنایا جا رہا ہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے تیاریاں مکمل ہیں۔