ویب ڈیسک:وزارت خارجہ نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے ساتھ بیرون ملک بدتمیزی کی مذمت کی ہے، جس میں خاص طور پر لندن میں احتجاج کے دوران انہیں دھمکیاں اور گالیاں دینے کی بات کی گئی۔
ترجمان وزارت خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ تمام واقعات قابلِ مذمت ہیں اور احتجاج کو مہذب طریقے سے منظم کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان ہائی کمیشن لندن میں برطانوی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور احتجاج کے دوران پاکستانی ہائی کمیشن کی گاڑی پر حملہ بھی کیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ باکو پر بھی ترجمان وزارت خارجہ نے گفتگو کی اور بتایا کہ وہ کاپ 29 سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے باکو گئے، ساتھ ہی وہ ریاض میں فلسطین کے حوالے سے عرب اسلامی سربراہ کانفرنس میں بھی شریک ہوئے تھے۔ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کا پاکستان نے خیرمقدم کیا۔
اس کے علاوہ، ممتاز زہرا بلوچ نے اطلاع دی کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار 17 نومبر تک متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے، جو وزیر خارجہ یو اے ای شیخ عبداللہ بن زید النہیان کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکام سے ان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔وزارت خارجہ نے مزید بتایا کہ افغانستان سے متعلق روسی صدر کے نمائندہ خصوصی آج پاکستان پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ سیکرٹری خارجہ اور افغانستان و مغربی ایشیا کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری سے ملاقات کریں گے۔