روس-یوکرین تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکراتی حل کی حمایت کی جائے:پاکستان

 روس-یوکرین تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکراتی حل کی حمایت کی جائے:پاکستان

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے فوری طور پر مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔

 اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز ایک اہم اجلاس میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی فوجی مداخلت کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ یہ جنگ نہ صرف متاثرہ خطہ بلکہ پوری دنیا پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان ڈائیلاگ اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کا پرزور حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس-یوکرین تنازع کے حوالے سے ہمیں شدید خدشات لاحق ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں لاکھوں انسانی جانیں خطرے میں ہیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے۔عاصم افتخار احمد نے عالمی قوانین کے تحت شہریوں اور انفراسٹرکچر کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ تصادم ختم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں، اور تمام مذاکراتی کوششوں کی مکمل حمایت کی جائے گی۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتے میں روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک رازدارانہ 28 نکات پر مشتمل روڈ میپ کی منظوری دے دی ہے۔ اس امن منصوبے کی قیادت امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکی ذرائع نے بتایا کہ یہ منصوبہ روس کے مشورے سے تیار کیا گیا ہے۔پاکستان کا یہ بیان اور امریکی میڈیا کی رپورٹیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر امن کے لیے کوششیں جاری ہیں، اور تمام فریقین امن کے قیام کے لیے مثبت اقدامات کر رہے ہیں۔