بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو آزادی صحافت کے معاملے پر چیلنج کرنے والی ناروے کی خاتون صحافی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ناروے کی صحافی ہیلی لنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کر دیے گئے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے اوسلو کے دورے کے دوران بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بھارتی سفارت کاروں سے آزادی صحافت سے متعلق پالیسیوں پر سوالات کیے۔مقامی اخبار Dagsavisen کی رپورٹر ہیلی لنگ کے مطابق انہوں نے بھارت میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے براہِ راست سوالات اٹھائے تھے، جس کے بعد ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل ہوئے۔
صحافی کا کہنا ہے کہ وہ فیس بک اور انسٹاگرام کے ذریعے لوگوں سے رابطے میں تھیں اور خاص طور پر بھارتی صارفین کے سوالات کے جواب دے رہی تھیں، تاہم اچانک اکاؤنٹس معطل ہونے کے باعث ان کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ امید رکھتی ہیں کہ جلد ان کے اکاؤنٹس بحال ہو جائیں گے، تاکہ وہ دوبارہ اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں اور عوام سے رابطہ برقرار رکھ سکیں۔